جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – ساتویں قسطnnدوسری طرف ، اگر آپ اپنے ذہن کو آزاد چھوڑیں ، جذبات کو نکلنے دیں، تصنع آمیز مٹھاس میں ، پناہ ڈھونڈنا ختم کردیں ، حقیقی ، اصیل اور خالص جذبات کے ساتھ خود کو سمجھیں ، ان کا اظہار کریں ، نہ کہ ، مصنوعی لوگوں میں بیٹھ کر ، انہیں کی طرح بےہیو کریں ، تو عین ممکن ہے کہ ، آپ کا یہ طاعون ، خود آپ کی ، اور آپ کے اطراف موجود افرادکی زندگی میں زہر نہ گھول سکے nورنہ ، جو شخص ، ان تمام چیزوں سے لطف اندوز ہوتا ہو ۔۔ nآپ اسی کو دیکھ دیکھ کر ، اپنی ذاتی بے چینی کو اس پر بلیم کرتے رہیں گے ۔آپ سے برداشت نہیں ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ رہا ہے خوش ہے ، حتی کہ اسے معلوم ہی نہیں کہ آپ وجود رکھتے ہیں لیکن ، آپ پھر بھی ، اس کی خوشی دیکھ دیکھ کر ، اندر سے مرتے رہیں گے ، اس کے گرد موجود ، کرشماتی لطافت کا ہالہ ، آپ کو بے حال کے رکھے گا ، اس سے منسلک ، افراد کی خوشی ، جو اس شخص کے ساتھ کی صورت میں ملتی ہے ، آپ کو ، تباہ کرکے رکھدے گی nاور پھر ، وہ ، اور اس کی زندگی آپ کے لیے ایک “قابل نفرت وجود” بن جائے گی ۔۔nnیہ ہوتا ہے، جذباتیت/حساسیت کے طاعون کا شکار ، فرد کا انجام

اترك رد