جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – نویں قسط nnاس جذباتیت کے طاعون کا اجتماعی نقصانnnردعمل کی نفسیات /طاعون اگر سماج میں ، سرایت کرجائے تو ، کوئی بھی شخص ، جو انتہائی مکار ہو ، ذہین ہو ، اس چیز کو سمجھتا ہو ، طاقت رکھتا ہو تو ، وہ انتہائی آسانی سے ، ایسے سماج کے منفی /حساسیت زدہ ذہن کو ، بہت منظم انداز میں ، ارینج کر کے ، اپنے تباہ کن ایجنڈے کے لیے استعمال کرسکتا ہے nکسی اور ، قوم /گروپ کو تباہ کرنے کے لیےnnکبھی مورال ڈاون ہونے کے نام پر
کبھی ، سیاسی بہتری کے نام پر
کبھی مذہب کے نام پر
کہیں ، رشتے تعلقات اور حتی کے قوم پرستی کے نام پرnnیہ ایسا ہی ہے کہ ، کسی وائرس کو پال پوس کر جوان کر کے ، اسے ، اپنے مقاصد کے لیے ، پوری پوری اقوام پر ، چھوڑ دیناnnسماج میں ان سب عنوانات سے ، وائرس تخلیق دیے گئے ہیں ، مذہب ، حب الوطنی ، یہ سب ، کل ملا کر ، افیون نہیں ، طاعون ہیں ، یہ نشے میں نہیں ڈالتے ، یہ ، اکساتے ہیں ، دوسرے گروپس کی تباہی کے لیے ۔۔nnبہت سے لیڈرز نے جن میں ہٹلر ، سٹالن ، قدافی ، صدام ، خمینی، ماوز ے تنگ ، ٹرمپ ، عمران خان ، nچھوٹے اور سطحی لیول پر ،یعنی بہت ہی حشرات الارض لیول پر آجائیں تو
عامر لیاقت، فیصل واڈا ، nnان کی گفتگو کا رخ دیکھ لیں n(ان دو کی مثال ، صرف سمجھانے کے لیے دی ہے ، ورنہ اوپر والے لیڈرز کی خاک پا بھی نہں یہ ، کرشماتی شخصیت کی بات کی جائے تو۔۔ nnخیر ، nn ، در اصل انسانی نفسیات کے اس وائرس سے واقف تھے ، حتی کے ، اسامہ بن لادن کا نام بھی ایسے ہی ، متاثر کن افراد میں آتا ہے — n(آپ کو اسامہ بن لادن کے نام سے اگر مرچیں لگیں ، اور آپ ، اس پوورے مضمون میں صرف یہ لائن پکڑ لیں ، تو آپ کو فوری طور پر ، اپنا ماحول تبدیل کرنے کی ضرورت ہے )
پوسٹ – 2020-10-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد