پوسٹ – 2020-10-03

نوے کی دہائی سے محنت ہو رہی تھی، اس ریاست مدینہ کی، nاب نشہ اترنے میں پانچ دس سال لگیں گے nطریقہ وہی ہے۔
پورا، دور/نسل زہریلی ہوچکی ہے۔۔۔ nاس کا مقابلہ، دوسری نسل یعنی وہ بچے جو بھی ساتویں آٹھویں میں ہیں۔۔nnانہی پہ محنت کر کے کیا جاسکتا ہےnnاس سے بھی پہلے، تیس سے پینتالس سال والوں کو اپنے دماغوں کی قید سے نکلنا ضروری ہے nورنہ، ریپیٹ ہوتا رہے یہ دور nnیہ آفاقی حقیقت ہے
ماننا پڑے گا، کہ سب ہار چکے، nتب نیا کھیت لگاو گے ۔
مسیحا آئے گا، سب بدل دے گا، نیا چہرہ ہونا چاہئے، نظام ہونا چاہئے۔۔ والے کھوتے منگوں پلسیٹے بند کرنے ہوںگے، ہائی برنیشن میں جانا ہوگا۔۔۔ مکمل بے جان ہونا ہوگا، سوچنا ہوگا، کہ نئے دور کی تخلیق کی حکمت عملی کیا ہے۔۔۔
یہ کام پڑھا لکھا کر نوکری کروا کر پہلی تنخواہ کا انتظار کرنے والا دماغ نہیں کرسکتا ۔۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.