پوسٹ – 2020-09-29

جب انٹرنیٹ نہیں تھا تب عام پاکستانی کی ، اکثریت سستی افسانویت پڑھتی رہی ۔
جب انٹرنیٹ آیا تو ، سستی فوٹوشاپ پر سستی افسانویت کے سستے چسکے لیتے رہے
جب انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھی ، سستائی ہوئی تو ، یوٹیوب پر ، ویڈیو کی فراوانی میں بھی ، سستا اور سطحی پن ، اکثریت کے ساتھ ، ملنے لگا
یہ “زندہ” قوم ایک دن میں نہیں بنی –nکم از کم بھی تیس سال ہیں ان کی بربادی کے پیچھے
اور ایک بہت ہی بڑی وجہ انفیکٹ دو بڑی وجوہات
ہم بیسٹ ہیں کا خناس
اور دوسری
حساسیت/زودرنجیn حساسیت صرف اپنے لیے ، یا پھر کسی کے مرجانے پر ، حرام ہے اندر سے کچھ فیل کرتے ہوں — سوائے اپنے ساتھ ہوئے کسی المیے کے — لیکن شو یہ کرتے ہیں ۔۔ بہت درد دل رکھتے ہیں ۔
بہرحال ، یہ دو چیزیں – ایک پوری نسل، جنریشن وائے جنہیں ملی نیئلز بھی کہا جاتا ہے nوہ جو ، انیس سو اسی سے تقریبا انیس سو چورانوے پچانوے کے بیچ پیدا ہوئے ۔
انہیں ، یہ سطحیت
، تباہ کرگئی ہے –nاور انہی کی نسل ہے آگے ، جنریشن زی، وہ جو ، پچانوے کے بعد اس دنیا پر احسان کیے ہیں آکر ، nnاس کا تو خیر جو حال ہے – وہ ہم دیکھ ہی رہے ہیں ۔۔
اب اگر کچھ ہوسکتا ہے تو ،
جنریشن “الفا”nوہ نسل جو ، دوہزار دس سے دوہزار چوبیس تک پیدا ہوگی ۔
توانہیں پر محنت ہوسکتی
باقی فارورڈ میسجز کر کے ، کوشش کرتے رہو آہستہ آستہ وقت برباد کرنے کی ۔n:)

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.