پوسٹ – 2020-09-28

سوال:nاکثر ایجادات/نئے افکار، ایسے افراد کی طرف سے کیوں آتے ہیں ، جو باقاعدہ اکیڈمکس کا حصہ نہیں ہوتے ۔۔ ؟
جواب : nتعلیم اور کتب بینی کی اہمیت سے تو انکار نہیں پر ، ایک مخصوص سسٹم کا حصہ بن کر لگی بندھی کتابیں پڑھ کر ، مخصوص اصولوں اور عنوانات کے زیر سایہ ، فکر ایک حد تک ہی پروان چڑھ سکتی ہے– خصوصا جب ڈگری چاہئے ہو اس لیے کہ نوکری کرنی ہے
جبکہ دوسری طرف ، کسی بھی مجبوری کی وجہ سے اس سسٹم سے باہر رہ جانے والا ، لیکن مطالعے اور کتب بینی سے قریب رہنے والا ، آزاد فکر پا لیتا ہے ، سوچنے کے لیے اصول درکار نہں ہوتے ، اصول ، فطرت/عقل سلیم سمجھاتی رہتی ہے — غلطیاں کرن کا مارجن ، زیادہ ہوتا ہے ، رسک لینے کی جرات بھی ، کچھ ہوتا ہی نہی ہے باس ، تو احساس زیاں کا ڈر بھی بیڑیاں نہیں ڈالے ہوتا– nپھر شروع ہوتا ہے ، ادراک ، شعور ، فہم کی ہمنوائی میں ، کٹھن لیکن ، دلچسپ سفر ، اور مزے کی بات بتاوں nاس میں سفر منزل ہے، ہر ایجاد ، ہر نیا افکار ، ہر نئی تخلیق ، محض ایک سنگ میل — وجہ ؟
کسی سسٹم کا حصہ نہیں رہا یا ویسے نہں رہا جیسے باونڈ ہو کر رہا جاتا ہے ۔۔تو پھر ، منزل طے نہیں ، کہ پڑھنا ہے لکھنا ہے ، نوکری چاہئے وغیرہ وغیرہ nپھر ، سفر ہی منزل بن جاتی ہے– اور منزل سفر

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.