پوسٹ – 2020-09-13

دل بار بار نہیں ٹوٹتا، اس کا تو کوئی لینا دینا ہی نہیں ٹوٹنے/جڑنے سے
یہ دماغ ہے جو ، ظرف/مروت کے nبار بار دھچکے کھاتا ہے
ایموشنل بلیک میل ہوتا ہے، پھر معاف کرتا ہے، پھر رسوا ہوتا ہے،
یہ بہت مضبوط ہوتا ہے ، بہت زیادہ اس کو پچھاڑنے کے لیے لمبا عرصہ چاہئے ہوتا
اور ایک بار جب اس کی سوچوں کا پیٹرن، بار بار کی کم ظرفی ،جھوٹ، دھوکہ، مینی پولیشن، سامنے والے کا خود کو ٹھیک سمجھنا، یا سوری کو معمول بنا لینا۔
یہ سب دماغ کے پیٹرنز کی بلیڈنگ شروع کردیتا ہے
جس کا اظہار مختلف الفاظ سے ہوتا ہے
پر جب یہی سمجھا جاتا رہے کہ یہ شکوہ ہے خود ٹھیک ہوجائے گا، اور اس کو سیریس ڈیمیج الرٹ ہے، بلکہ انفارم کرنے کو وقتی موڈ سوئنگ بتایا جائے، تو ایک وقت آتا ہے کہ مضبوط سے مضبوط دماغی پیٹرنز تباہ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ، بےحسی کی راکھ اڑتی پھرتی پے، کسی بھی انسان کو کیفیت سے آزاد کرنے کا آسان طریقہ ہوتا یے۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.