مرد، آئی لو یو کہہ سکتا ہے، پر محبت نہیں کرسکتا، جو چیز اسے محبت لگتی ہے، یا جسے محبت کہہ کر متعارف کرواتا ہے، وہ دراصل ضرورت مندی ہے، طلب ہے، بھوک کا اظہار ہے، انواع اقسام کے پکوانوں کی اشتہا ہے،
وہ جسے محبت کہتا ہے، وہ دراصل نارسائی کا خوف ہے،
وہ ہجر سے بگٹٹ بھاگنے کی سعی ہے۔n اسےمحبت ودیعت نہیں ہوئی، اسے بھوک ودیعت ہوئی ہے ،
جسے لگتا ہے وہ ون وومین مین ہے، اس کی فطرت میں کچھ کجی ہے، جو کبھی دھوکہ کبھی بوریت تو کبھی بے وفائی بن کر سامنے آتی ہے، کیوں کہ مرد اک ذایقے پہ اکتفا کرنے والے خمیر سے اٹھا ہی نہیں۔ ہاں جو ایسا کہتا ہو، کہ میں ون وومین مین ہوں، اک کے لیے سب تج دوں گا، وہ در اصل یہ بتارہا ہوتا ہے، کھانے کو نہ ہو تو روزہ رکھ لو، اکثر کیسز میں ایسے افراد(سب نہیں پر اکثر، خصوصا پاکستانی ) جو اس بات پر زور دیتے نظر آئیں کہ محبت ایک سے ہی ہوتی ہے، ان کو آبزرو کیجیے گا، انہیں کوئی دوسری ویسے بھی نہیں مل رہی ہوتی، وہ اپنی ذات میں موجود، کشش کی کمی(ظاہری کشش نہیں شخصی کشش)، بزدلی کی زیادتی یا تو چور دروازوں سے کم کرتے ہیں، یا کسی نہ کسی بہانے خواتین کی توجہ مانگتے نظر آتے ہیں، یا پھر انگور کھٹے ہیں کہ مصداق
ون وومین مین کا نعرہ دردناک بلند کرتے ہیں
کیوں کہ فطرتا، ون وومین مین محض مفروضہ ہے، nاکثریتی کیس میں یہ جملہ اس عورت کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کہا جاتا ہے، تاکہ ، وہ ان کی ذات پر ، ان کے چور راستوں کی خبر گیری نہ کرے، اور عورت ٹہری ناقص العقل، اسے کیا خبر کہ مرد ناقص الجذبات سہی، پر ناقص الفہم تو بہرحال نہیں، کہ، مناسب وقت پر اپنا بچاو،کسی جذباتی تکنیک سےنہ کر سکے، جی، یہ سارا لاجکلی ایمونشل اور ایمونشلی لاجکل کا معاملہ ہے جس مرد کو سمجھ آجائے کہ، کب جذبات کا منطقی استعمال کرنا ہے، اور کب منطق کا جذباتی انداز ،وہ پھر nون وومین مین کے فریب سے نکل جاتا ہے، پر یہ بہت مشکل پے انتہایی دشوار ہے، ہر کسی کے بس کا روگ نہیں، اسی لیے مرد (آج کل کے مرد) افراد کو یہ کہنا آسان لگتا ہےn’میں تو بس تمھی سے پیار کرتا ہوں’ ۔
پوسٹ – 2020-08-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد