پوسٹ – 2020-08-18

اگر آپ عمر کی میچورٹی ، زندگی کے تجربات کے بغیر ، بس مشکل مشکل پڑھتے اور لکھتے چلے جانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں ، اورn مشکل الفاظ اور فلسفیانہ باتوں کے بغیر اپنی بات سادہ اور آسان الفاظ میں عام افراد کو نہیں سمجھا سکتے ، تو آپ ، nنااہل ہیں یعنی خود بھی نہیں آتا یہ کام ،یعنی سادہ کہنا ، سوچنا سمجھنا
ذہن وسیع نہیں ، تنگ ہے ، یعنی فلٹریشن ہی ایکٹو نہیں دماغ میں کہ ، کس بات کو کسیے سمجھانا ہے ، ایسا اکثر کمسن دانشوروں کے ساتھ ہوتا ہے ، اگر باز آجائیں تو ، عمر کے ساتھ ساتھ یہ عارضہ ٹھیک ہوجاتا ہے nکام چور ہیں یعنی مشکل کو آسان کرنے سے بھاگتے ہیں nمغرور ہیں ، آپ کسی کو اس قابل نہیں سمجھتے nپراگندگی ذہن کا شکار ہیں ، یعنی دماغ میں سیدھی باتیں نہ بیٹھتی ہیں نہ ہی ، کسی دوسرے کے دماغ میں بٹھا پاتے ہیں nآپ مذکورہ بالا سب ہو سکتے ہیں nلیکن nذہین nمطالعے کے پروردہ nاچھی اردو کے شائق
فلسفی
دانشور
ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتے ، nاگر آپ اس دھوکے کا شکار ہیں تو ابھی بھی رک جائیں ، ورنہ یہ عارضہ جوان ہو کر ، خود پسندی نرگسیت اور ،جعلی عاجزی کی طرف لے جائے گا ۔۔
فیر تسی nمیں ہاسیاں چے یار گوایا ، گایا کرو گے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.