چاکر ہو جا رائیاںnnوہ جب ، مزار کے پاس رکتا ، اسے ایک مجذوب سر میں مٹی ڈالے ، دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھائے ، میلے کچیلے لباس کو تھرتھراتا ہوا nیہی نعرہ لگاتا نظر آتا ، دیکھنے میں اس کی عمر چالیس سے زیادہ نہ ہوگی ، جٹا دھاری انداز میں بال میں بڑھا رکھے تھے، شانوں پر جھولتی زلفوں کے ساتھ سر جھٹکتا ، سرخ آنکھوں سے ہر آنے جانے والوں کی آنکھوں میں نقب لاگتا
حق ہو
چاکر ہوجا رائیاں کا نعرہ لگاتاnnوہ مزار ایک نسبتا کم آبادی والے گاوں کے بیچوں بیچ تھا، nجہاں وقت ، ابھی بھی ، انیس سو سینتالیس میں رک سا گیا تھا ، نئے دور کی پرچھائیاں ، سمارٹ فونز ، وغیرہکی صورت بہرحال نظر آجاتی تھیں ۔
لیکن عمومی طورپر گاوں خاکی تھا ، کچے گھر ، نیچی دیواریں ، گاوں کے مخصوص شب و روز ، کھلے ڈلے ہو کر ، اس کی نیم زدہ گلیوں سے ، کھکھلاتے گزرا کرتے nوہ جب کبھی یہاں آتا ، مزار پر چکر ضرور مارتا ، اس کے دادا اس گاوں کی چھوٹی سی مسجد میں پیش امام رہے تھے اس نسبت سے اسے بڑی عقیدت سی تھی nکچھ برسوں سے ، اس مزار کے آنگن میں ایک پودے اور ایک ملنگ کا اضافہ ہوگیا تھا ،
وہ ملنگ سارا سارا دن ، اوندھے منہ پڑا رہتا ، بظاہر صحت مند تھا ، نشے وغیرہ کا عادی نہیں لگتا تھا، پر ، کسی سمے موج میں آکر ، جب مزار میں رش بڑھتا تو ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر ، nحق ہو
چاکر ہوجا رائیاں کا نعرہ بجانا شروع کردیتا
اس کی سرخ آنکھوں میں کشش کے ساتھ ساتھ گم صم کی کیفیت چھلکتی تھی ، اس سے زیادہ دیر نظریں نہیں ملا پاتا تھا
اسے کھوج ہوئی تھی کہ یہ کون ہے کہاں سے آیا nاور ایسا کیوں کرتا ہے
کوئی کہتا ، کسی ایجنسی کا بندہ ہے
کوئی کہتا ، لڑکی کا چکر تھا
کوئی کہتا ،بیوی ذہنی توازن خراب کرکے یہاں چھوڑ گئی nکوئی کہتا ، بدمزاج تھا گھر والوں نے نکال دیا
خیر
بہتیرا پتا کیا ، لیکن کوئی خاص سراغ نہیں مل سکاnnآخر اس بارے میں احساسات لکھتے لکھتے اس نے ، درخت کے نیچے بچھی چھال پر پاوں پسارے nاور سرخ آنکھوں کو پٹپٹاتے ایک نعرہ لگایاnnحق ہو nچاکر ہوجا رائیاں ۔
پوسٹ – 2020-08-15
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد