جس طرح ، سن بلوغت کو پہنچتے ہی لونڈے کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ، دنیا میری مٹھی میں ہے ، پھر چوبیس پچیس سال کی عمر ، تک ، اسے سب ہرا ہرا سوجھتا ہے ، یہ اس کا فالٹ نہیں ہوتا ، یہ اس کے ہارمونز ہوتے ہیں ، جو انرجی /برق بن کر کوند رہے ہوتے ہیں ، فوکس ٹکے کا نہیں ہوتا ، لیکن ، باتیں چھکے کی کرتے ہیں ۔ nاس میں کچھ غلط بھی نہیں کہ عمر بھی ایسی ہوتی ہے ، پر اس عمر میں ، چونکہ اگر ڈسپلن / فوکس / مستقل مزاجی کی ٹریننگ( جو کہ بہت مشکل ہوتی ہے) نہ لی جائے تو ، چونکہ پڑھتی عمر کے ساتھ ، ہارمون اوقات میں آنے لگتے ہیں ، یعنی ٹرم پوری ہونے لگتی ہے ، اور باتیں دعوے کر کرے کے ، جوانی مستی میں گزار دی ہوتی ہے ، یا یون کہہ لیں کہ ، تیرہ سے پچیس کا جوش ، باتوں میں دعوں میں انقلابی کہانیوں میں گزار دیا ہوتا ہے ، پھر جب یہ بارڈر کراس ہوتی ہے یعنی تیس کے قریب پہنچنے لگتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ ، یہاں تو آٹے دال کا بھاو ہی الگ ہے ، پر چونکہ اپنے ہی دعوے ، منہ پر پڑنے لگتے ہیں ، پھر بلیم گیم کا سین شروع ہوتا ہے ، کہ فلاں کام اس کی وجہ سے نہیں ہوا ، فلاں اس کی وجہ سے نہیں ہوا، نہیں فلاں کام تیرے فوکس ، ڈسپلن ، اور کام میں مستقل مزاجی کی وجہ سے نہیں ، ہر بار تو قسمت یا ، دوسروں کو الزام دے کر نہیں نکل سکتا۔۔
ہوتا ہے کبھی کبھار ، کوشش کام نہیں آتی ، قسمت میں کچھ اور لکھا ہوتا ہے ، لیکن کوئی اور رستہ اپنا کر بھی اگر تیری قسمت ساتھ نہیں دے رہی تو کمی اپنے اندر ڈھونڈو nخیر ایسا کرتے کرتے تیس کی ایج آجاتی ہے ، بلوغت اب حقیقت پسندی بن کر مایوسی ڈپریشن ، الزام تراشی ( شادی کی عمر ہو چکی ہوتی ہے ، اور روزہ چل رہا ہوتا ہے) nیہ بھی ڈسٹرپنس کری ایٹ کرتا ہے
پھر ، انسان ، حکمران ہو یا عوام nاپنے سے پچھلوں کو گالیاں دیتے دیتے ، باقی وقت گزار کر آخر ی عمر میں nٹی وی دیکھ دیکھ کر ، n”اگر مجھے وقت دیا ہوتا تو میں قسمت پلٹ کر رکھ دیتا “nایسوں کو پھر یہ کہنا چاہئے
یہ کہنا چاہئے کہ ، n”پہلے اپنی تو بدل لے “nnنوٹ: اس پوری پوسٹ میں ، کوئی بھی اشارہ ، موجودہ حکمران یا سیاسی صورتحال کی جانب نہیں تھا، یہ خالصتا ، انسانی نفسیات اور ہارمونل گروتھ سے متعلق پوسٹ ہے ۔
پوسٹ – 2020-08-11
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد