پوسٹ – 2020-07-04

پاکستانی/مسلمانوں کا‌مزاج اور ان‌کے مس‌کمیونی کیشن/ گفتگو،بات کو‌سمجھنے، سمجھانے کی اوقات کا‌اندازہ اس چیز سے ہوتا ہے کہ یہnn’ نماز‌کے قریب بھی مت جاو، اگرچہ تم‌نشے میں ہو’nوالی آیت کا
پہلا‌حصہ سمجھتے ہیں،اور وہی کمیونی کیٹ کر کے، ردعمل دیتے ہیں
کچھ کا آئی کیو ہی اتنا ہے۔
کچھ زنانہ‌ٹائپ‌ہوتے ہیں کہ‌موسٹلی عورتوں کی‌عقل‌ادھوری ہوتی ہے، تو وہ بات کو‌آدھا پک‌کرتی ہیں، اس لیے، ان کی حد تک‌ٹھیک ہےکہ ان‌کا‌دماغ، پروگرامڈ ہی ایسا کیا‌گیا‌ہے کہ‌آدھی‌بات سمجھے گی، اور بہت‌کم‌ایسا ہوتا ہے کہ‌،تمیز‌کے ساتھ پوری بات سمجھ جائے۔۔
لیکن ،عورتوں میں زیادہ اٹھنے بیٹھنے والے مرد، کمسن گلابی‌لڑکے(خصوصا کنوارے) زیادہ بہنوں میں پل‌کر‌جوان ہونے والے، اکثرمرد نما‌چیزیں، بھی‌اسی بیماری‌کا‌شکار ہوجاتی ہں
کہ آدھی بات کرنی ہے اور اتنی ہی سمجھنی ہے، جو‌سوٹ کرے
اکثر کے اینگزائٹی لیول اس قابل‌نہی کہ‌ پوری بات سمجھیں
اور بہت‌سے، جان بوجھ کر‌آدھی بات کرتے ہیں کیوں کہ اپنا مطلب پورا ہو‌رہا ہوتا ہےnnآیت پیش کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے، کہ آدھی بات کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں عقلمند اور‌زندہ‌/ ٹیلینٹڈ قوم‌کہلائیں
ذرا سوچیں، ادھورا سچ، اور آدھی بات کے مضمرات
جب آپ کسی کو
محض یہ کہیں
نماز کے قریب بھی مت جاو
میں نے تو قرآن میں پڑھا ہے
تو اس‌ پر ، کیا فتنہ برپا‌ہوگا۔۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.