کورونا نے ، جو کیا سو کیاnnیہ ڈاکٹر ساڑے ، ، پوسٹ کورونا سیناریو (کورونا / لاک ڈاون کے بعد کا سیناریو)nnمیں اگنے والےnnPTSDnnPost Traumatic Stress Disorder ( تفصیل خود پڑھ لو نیٹ پر)nnکے بیج ڈال رہے ہیں۔nnجو بس ، ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے ، اور ، انتظار کررہا ہے ، کہ ، کورونا اور ؛لاک ڈاون ، سے فارغ ہو تو میں ، ان کی نفسیات کی ایسی تیسی کروں ۔nnدیکھتے جائیںnnکل کو “محتاط” اور احتیاط” جیسے لفظ بھی ٹرگر کریں اس قوم کو ، دیکھتے تو جاوnnمشینی زندگی سے ایک دم انسانوں میں رہنے کا تجربہ ہضم نہیں ہو رہا، نوکری والوں کو ، اس میں فالٹ کسی کا نہیںnnڈاکٹر ہوں ، یا یہ دوسرے افراد ، ان کے پاس ، کرنے کو اور ہے کیا ؟nnڈاکٹر کے پاس تو پھر مصروفیت ہے ، کہ ہاسپٹل چلا جاتا ہےnnدس دس سال سے نو سے پانچ کے چکر میں پھسنے والوں کی گراریاں کھل رہیں اب ،nnدس دس بیس بیس سال سےnnتعلیمی نظام ، سوسائٹی کی بے جا پابندیوں ( بے جا کہا ہے ، بنیادی نہیں )nnڈگری نوکری ، کے تقریبا مشینی اور شیطانی چکر میں پھنس کر ، جو ، سوشل اکلز دب ، بلکہ دفن ہو کر متعفن ہو چکی تھیں ، جن کا مردہ بھی خراب ہوگیا تھا ، اب وہ ، بدبو ، اگریشن بن رہی ہے ۔nnجی ہاں ، وہی سوشل سکلزnn، جسے یہ لوگ ، ایس ایم ایس ، آرکٹ ، فیس بک ، واٹس ایپ پرnn”فیملی کو وقت دو”nnرشتے داروں کی سنوnn”سب کو خوش رکھوnnنیٹ کی دنیا سے زیادہ اہم فیملی ہےnnجیسی پوسٹس ، “انٹرنیٹ” پر ہی ، گھما پھرا کر ، سمجھتے تھے کہ ، ہم بڑے رکھ رکھاو، حفظ مراتب ، بامروت،رشتے تعلق نبھانے والے ہیں ،nnاب حقیقت ، اس ماحول نے کھول دی ہے کہ ،nnآپ صرفnn”دس لوگوں کو شئیر کرو خوشخبری ملے گی”nnکی حد تک ، ملنسار تھےnnسواب ،nnنوکری والے ,گھر والوں میں، بیٹھنا بھول گئے تھےnnگھر والے ان کی شکلیں دیکھ کر ، الجھ رہے ہیں ، کہ انہیں بھی عادت نہیں رہی ، ان کی ، کیوں کہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیںnnکنورسیشنز، ختم ہوگئیں تھیں ، گھر سے آ کر دوست ، دوست سے آکر ، بسترnnبستر سے اٹھ کر آفسnnسیم گوز ود فیملیnnتو اب ، جب اسکلز ہی دفن ہوچکیں، اور ان کی اب ضرورت پڑی ، ہنگامی سہی ، سازشی سہی ، جیسے بھی سہی ، اب ضرورت پڑی تو ،ان کے پاس تو ، اپنی سوشل اسکز کی قبروں کا پتا تک نہیں ، اور اب یہ کھوج ، غصہ بن کر ،nnکہیں تو نکلنا ہے سو،nnڈاکٹروں پر ہی سہیnnکہ یہ سالے پینک/افراتفری پھیلا کر حکومت کے ایجنٹ بن رہے ہیں ،
ہاں یہ ناممکن نہیں کہ ، حکومت ڈس انفارمیشن پھییلائےnnدنیا بھر کی ، ریاستیںnnNepolian of Propagndannبننے کے چکر میں بہت کچھ کرتی ہیں ، خیر ،
خیر ،اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا ،کہ آنکھوں دیکھے کو جھٹا کر ، nاپنا n”ڈینائل موڈ” سیٹسفائے کیا جائے ۔
اگر ڈاکٹر ڈس انفارمیشن پھیلا رہا ہے nتو آپ ، اسے “ایجنٹ” کہہ کر ، کون سی خدمت کررہے ہیں nہاں ، آپ یہ کہیں کہ nکورونا سے ہونے والا نقصان حقیقی ہے ، لیکن میں ، خود کو پرسکون رکھنے کے لیے یہ سب سے دور رہنے کے لیے ، ایسے لوگوں کو انفالو بھی کروں گا اور احتیاط بھی کروں گا، تو بات بھی ہے ۔nnبہرحال ، اب ، ڈاکٹرز بھی اپنے کنے پڑوا بیٹھے ہیں ، وہ بھی اسی معاشرے کے ڈگری اور نوکری یافتہ ، ہیں ۔ ان کا سٹریس کس پر نکلنا ہے ؟nnانہی پر ، جو سازش سازش یا یوں کہیں ، کہ محض سازش سازش کی رٹ لگا رہے ہیں ۔nnیہ بنیادی طور پر ، دو انتہاوں کا تصادم ہے ، جس سے ، دووووور بیٹھا کوئی بھی سماجیات کا طالب علم ، محض ، برسوں سے کی جانے والی nاس محنت کا ثمر سمجھ سکتا ہے ، جو ، اس قوم کو ، اس نفسیات ، ڈینائل ، اگریسشن ، اور کنفیوزڈ ، ڈس ٹارٹڈ ، تھنکنگ ، کی ، اس نہج پر ، لانے کے لیے ، کی جاتی رہی ہے ۔ nآخر میں ۔۔ nn سب سے مزے کی بات۔nnاور یہ تجزیہ کرنے والا ایک الیکٹرونکس انجینئر ہے ، جس کا دور دور تک ، کوئی تعلق ہی نہیں سوشیالوجی یا نفسیات سے ، ، نہ ہی ، ڈاکٹری سے ، نہ صحافت، نہ نیوز سے ۔۔nnاور پھر ہم کہتے ہیں ، چیف جسٹس ڈیم کیوں بناتا ہےnnاس کا جو کام ہے ، وہ کیوں نہیں کرتا۔ خیرnnمیں کورونا کورونا کردی ،نی آپے نفسیاتی ہوئی ۔nnنوٹ: اپنا الیکٹرونکس انجئیر ہونا کتنی باریکی سے بیچا ہے ، یہ چیک کرو بس۔
پوسٹ – 2020-06-02
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد