#2nnروزانہ ، ایک گھنٹہ لکھنا ، زندگی کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے ؟nnایک گھنٹہ، ایک دن ، اور ایک سال ۔nnکوئی بھی کام /عادت ، اپنانی ہو ، ہم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں سے ، بہت کچھ بلکہ حد سے زیادہ امیدیں لگا لیتے ہیں ، اور جتنی زیادہ توقعات ہم ، ایک دن سے لگاتےہیں ، ا س سے کہیں کم ، ایک سال سے ، ہم سمجھتے ہیں ، ہم ایک دن میں دنیا بدل سکتے ہیں ، لیکن ، ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ، ہم ایک سال میں ، اپنی زندگی /شخصیت ، میں انقلاب برپا پیدا کرسکتے ہیں ، ہمیں شخصی ارتقاء/انقلاب کی طرف مائل ہونے سے ، جو چیز روک رہی ہوتی ہے ، اسے کہتے ہیں ، معاشرے کا درد، وجہ ؟ اندر جھانکنا ، مشکل ہے ، باہر جھانکناآسان۔اسی لیے ہم دنیا کے ٹھیکیدار بننے چل پڑتے ہیں ، اپنا ٹھیکہ خواہ ، ٹھکا ٹھک کی نذر ہوجائے ۔۔
کیوں کہ ، ہر انسان ، کے دماغ میں ، ایک چپ لگی ہوتی ہے ، جسے ، فیصلے لینے کی قوت کہا جاتا ہے ، اور وہ ہمیشہ ، ڈیفالٹ سیٹنگ کے مطابق ، آسان فیصلہ یعنی ، دنیا کو سدھارنے کے تخیلاتی محل قائم کرنا ، کام کرتی ہے ۔اسی لیے ، ایک گھنٹہ ، روزانہ ، باقاعدگی سے کوئی بھی کام کرنا، مشکل اور پورے دن ، میں بہت کچھ کرگزرنے کی ، خواہش آسان لگتی ہے ، اور جب ہم ایک گھنٹہ مستقلا کچھ نہیں کرتے ، تو پھر ہم ، برسوں پر محیط، پلاننگز کرتے ہیں ، وہ پلانگز ، محض پلندے ہی ثابت ہوتی ہیں۔
کتاب لکھنے کو ہی لے لیجئے ، روزانہ ہزار آئیڈیاز سوچیں گے ، کسی ایک پر بھی ، باقاعدگی سے ایک گھنٹہ روزانہ ، کام نہیں کریں گے ۔
مختصر ایک گھنٹہ روزانہ کام کرنا/لکھنا ، بہت چھوٹا سا عرصہ ہے ،
مہینے کے تیس گھنٹے
سال کے ، تین سو ساٹھ گھنٹے
اور دنوں کے لحاظ سے ، ایک سال میں مکمل پندرہ دن
گویا ، کسی بھی پراجیکٹ کو ، آپ مکمل پندرہ دن دیں ، تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ، آپ اس کام میں کس انتہا کی کوالٹی اور باقاعدگی ایک ساتھ ، گوندھ سکتے ہیں ؟
پوسٹ – 2020-01-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد