ضیا دور نہ میں نے آنکھوں سے دیکھا ہے، نہ میرے ہم عمروں میں سے کسی نے، کتابوں نے ضیا کو ولن بھی کیا ہے، اور ہیرو بھی، لیکن ایک ستر سالہ بزرگ کہتے ہیں، کہ ضیا کی زندگی نے اسے مہلت نہ دی،ورنہ کم از کم وہ طالبان، اور ایم کیو ایم دونوں کو ہاتھ کی لکیروں جیسا سمجھتا تھا، اگر زندہ ہوتا، تو ایم کیو ایم کو صرف وہی سمجھ، سنبھال اور نیست و نابود کر سکتا تھا۔
مجھے نہیں پتہ یہ دعوی کس حد تک ٹھیک ہے، لیکن ضیا کی یہ مسکراہٹیں مجھے بتاتی ہیں کہ nایم کیو ایم اور طالبان، ضیا کی بنٹی بھائی تھی اور ضیا ان کا گنیش گائ تنڈے ۔
مسکراہٹ اور ہونٹوں کی بھی ایک سائنس ہوتی یے،ہر کسی کو یہ مسکراہٹ نصیب نییں ہوتی، میں نے اس کی مسکراہٹ بہت زیادہ زوم کر کے دیکھی، اور جب دیکھی، میں لرز گیا، اس لیے نہیں کہ یہ آرمی چیف تھا یا، کوئی ہیرو تھا، اس لیے، کہ یہ مسکراہٹ، کسی عام بندےکی بہرحال نہیں، آپ موازنہ کرلیجیے ، ضیا کی مسکراہٹ اور مشرف کی مسکراہٹ، شاید تاریخ پنہاں ہے، اس زیر لب کھچاو میں۔
مجھے گر حق انتخاب ہوتا،تو ، میں قدرت سے یہ والی مسکراہٹ مانگ لیتا۔
پوسٹ – 2019-08-17
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد