یہ حتمی بات یا کوئی کردار کشی یا پھر تجزیہ نگاری نہیں ۔ہر کسی کا موقف الگ ہو سکتا ہے ۔ لیکن بس ایک اینگل یہ بھی ہے کہ میشا ، سیجیٹرییس ہے، گویا کیپری کورن سے قدرے ملتی جلتی پرسنیلٹی، اتنا تو شیور ہوں کہ ایسے لوگ ہراسمنٹ کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ اگر ناگفتہ بہ سرگرمیوں کی بھی بات کی جائے تو سیجیٹریس فی میل قدرتی طور پر، بستر کو بھونچال کردیتی ہے۔ اور اس کا ڈسا ہر شکار ، شاہکار ہو کہ، نہال ہو کر یہ کہتا ہے۔nnجہاں بھونچال ، بنیاد فصیل و در میں رہتے nہمارا حوصلہ دیکھو ہم اس بستر میں رہتے ہیں nایڈونچر لور، قائدانہ صلاحتیوں کا حامل ، برج قوس یعنی سیججیٹریس اس بات کا محتاج نہیں ہوتا کہ کسی کو ہراس کرے، بلکہ لوگ خود تیار رہتے کیں زیر اثر ہونے کے لیے۔ nاب بعد میں پاکیزگی کا ڈرامہ کرتے تو میں نے حقیقی زندگی میں کتنوں اور کتنیوں کو دیکھا ہے۔۔۔ پھر یہ تو شوبز کے لوگ ہیں جس کے نام میں ہی شو ہے۔ nاور ہاں آخری بات ، میشا کی شکل پہ جگت لگانے والے سب تو نہیں پر اکثر وہ غیر شادی شدہ اوور ایج کنوارے ہیں جو بیچارے جو سانڈے کے تیل ںیچنے والوں کے گرد رش کا باعث بنتے ہیں، ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص عورت کی ہم نشینی کی لذت سے ہمکنار ہو چکا ہو، اسے اس عمل کے پورے کل و جز معلوم بھی ہوں، اور پھر وہ میشا جیسی کسی بھی عورت کی ظاہری شکل و صورت پر جگت لگا کر علی ظفر کو ایڈوکیٹ کرے۔۔ nارے کوئی غلط نہیں کوئی صحیح نہیں، دونوں نے مزا کیا یا دونوں نے نہیں کیا، کاکا منا چنا کوئ نہیں یے، اس لیے چل کرو اور حرکت کرو تاکہ برکت ہو ، شرکت برکت لذت کا عنوان بنے رہو تو ان ایشوز کے بارے میں سمجھ سکو گے، ورنہ تو فرسٹریڈ قوم بلکہ ہجوم ہو، اور یہ محض ایک نیا مصالحہ ہے، ورنہ اکثر متقیوں کے سامنے میشا کی چاینہ کاپی بھی آجائے تو سردی میں گرمی ہوجائے۔۔

اترك رد