پوسٹ – 2019-04-30

جن لوگوں کےدفتر ، آئی آئی چند ریگر روڈ پر ہیں ، یا پھر وہ روزانہ صدر سے گزر کر آفس جاتے ہیں ، اور آتے بھی شام پانچ چھ بجے اسی روٹ سے ہیں ، ان سب کو شنید ہو – جب بھی آفس سے واپسی کے لیے اپنی گاڑی یا ہاتھ گاڑی یعنی بائیک سٹارٹ کریں ، تو آنے والے رش میں خوار ہونے کے تصور کی اذیت کے مداوے کے لیے روز تین بار ، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ جملہ بار بار دہرائیں n”ایسا ہے میرا کراچی”nدوسری صورت یہ ہے کہ یہی عمل بار بار دہرائیں صرف جملہ تبدیل کرلیںn”کراچی کراچی ہے یار”nایک صورت اور بھی ہے nاور وہ بھی یہی ہے ، بس جملہ تبدیل ہے nn”ووٹ صرف اپنوں کا”nکا ورد کیجئے ، افاقہ ہوگا-nاور ہاں ، پھر بھی فرق نہ پڑ رہا ہو
تو روز ایک بار
وسیم اختر کی شکل دیکھ کر nدل میں کہیں nمئیر تو اپنا ہے nnجماعتی افراد
حل صرف جماعت اسلامی کہہ کر بھی خود کو خود لذتی سوری تسلی دے سکتے ہیں nگرمی ورمی کچھ نہیں ہے ، بس دماغ کا وہم ہے — nجس کو ایسی ذۃنی مشقوں سے ہی شکست دی جاسکتی ہے ، ویسے بھی کراچی والے ، بڑے والے سوری جیالے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.