پوسٹ – 2018-09-04

دیکھو بھئی ، خوام خواہ کی اخلاقیات جھاڑ کر ، لبرلوں ، قادیانی کے ہمدرد دانشوڑوں کو قائل کرنے والے انے وا قسم کے نیک نیت مسلمانوnnبات بس اتنی سی ہے کہ یہ پاکستانی دانش وڑ لبرل لسوڑا – تمھاری دعوت، تمھارے اخلاق، تمھاری تہذیب ، حتی کے تمھاری ذاتی دوستی اور انسانیت کا لحاظ کرنے تو بیٹھا نہیں ہے فیس بک پر ، یہ آوارہ کتے ، سوچ کر آتے ہیں کہ آج ، فلانے مسئلے میں انگل کرنی ہے ۔۔ پھر جب ان کو جواب میں پورا بازو عنایت کیا جائے تو بلبلاتے ہیں کہ ہائے انسانیت ، ہائے اخلاقیات ، تو میرے معصوم سیاسی نرم اخلاقی اور تہذیب یافتہ داعی الی الخیر اخلاق والوں — سمجھاو اس کو ، جو واقعی سمجھنے کی نیت سے بیٹھا ہو– nاب سوال ہوگا کہ یہ طے کیسے ہو– اس کے لیے سورہ بقرہ میں موجود ، وہ واقعہ یاد کرلیں جب اللہ نے گائے کی قربانی کا حکم دیا تھا ، تو اس وقت کے صحافی اور وکیل نما یہودیوں نے پریس کانفرس بٹھا لی تھی ، کہ ایسی ہو ، کیسی ہو ، ویسی ہو ، وہ ہو ، یہ ہو اگر یوں ہوں تو کیا ہو، ووں ہو تو کیا ہو۔۔ ۔ تو اللہ تعالی نے صاف فرما دیا تھا کہ nnاوروہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔
تو ثابت یہ ہوا کہ انہوں نے سوال کرنے ، عمل نہیں ، انہوں نے آنا کانی کرنی ہے ، اطاعت نہیں ۔۔ خصوصیت کے ساتھ یہ جو ناصیہ کاذبہ اپنے سر پر سوار کیے گھومتے ہیں ، ان کے دماغ کے فرنٹل لوب میں جو یہ مکاریاں پنپتی ہیں ، اللہ ان سے خوب واقف تھا ، تب ہی اس نے سورہ نمل میں بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے واشگاف الفاظ میں فرما دیا تھا کہ nn”اے نبیؐ ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو، اور نہ اِن کی چالوں پر دِل تنگ ہو”nیعنی کہ تم نے سمجھانے کا حق ادا کر دیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقت پر اصرار کر کے عذابِ الہٰی کے مستحق بننا ہی چاہتے ہیں تو تم خواہ مخواہ ان کے حال پر کُڑھ کُڑھ کر اپنی جان کیوں ہلکان کروnnاب آپ خود فیصلہ کرلو ، کہ اپنی پالٹی بازی کی سیاست کے لیے ان بے غیرت دانشوروں کے ساتھ نرم رہنا ہے یا سختی کے ساتھ پارٹی کے ان تمام فیصلوں کو رد کرنا ہے جو اللہ کے کبر کی چادر پر نقب لگاتے ہیں ۔۔ nیہ لبر ل زادے ، فیس بک یا حقیقی زندگی میں بھی ، ماننے کےلیے نہیں بیٹھے ہوئے – آپ جتنا زور لگا لو اپنے اخلاق کا—

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.