کھیل کھیل بیٹا ، ٹوکن میں دلا دوں گاn—————————————————nیہ ذکر ہے غالبا انیس سو ستانوے کی ایک دوپہر کا جب میرا کزن اور میں ، حسب معمول ، ظہر کی نماز کا ٹلا مار کے ، وڈیو گیم پر جاپہنچے ، ہمارے پاس کل ملا کر پورے ، دو رپے تھے ، اس نے اپنے حصے کے ایک روپے سے ٹوکن خریدا اور سٹریٹ فائٹر لگائی ، میں نے پتا نہیں کیا لگائی ، لیکن میری جلدی ختم ہوگئی شاید کوئی ہارڈ گیم لگا بیٹھا تھا ، اب میں مروجہ اصول کے عین مطابق صبر سے ، کزن کا گیم دیکھنے لگا ، وہ شاید اس وقت کین لے کر ، ای ہونڈا ، المعرو ف دھوبی، عرف، ہوا ہوا پھوا پھوا سے برسرپیکار تھا ، گیم کی کان میں ، ابو کین ، ادو کین ، ہاااار یو کین پک ک پک پو جیکٹ کی آوزیں گونج رہی تھیں خالہ زاد سٹریٹ فائٹر میں لگا ہواہے اور اس کے پیچھے ایک تیس سے پینتس سالہ آدمی لگا ہوا تھا۔میں شاید آٹھویں میں ہونگا میرا کزن ، چھٹی یا ساتویں کلاس میں ہوں گا خیر عمر اور سال اہم بس انڈر میٹرک تھے ، اب دو باتیں تھیں ، یا تو پیچھے والے کو بھی کھیلنے دو اور اپنا گیم بھی جاری رکھو، کیوں کہ ایک روپے کے ٹوکن پر بندہ کیسے چھوڑ سکتا ہے ؟ کہ گیم اتنا اچھا چل رہا ہو اور کوئی پیچھے گیم کرنا شروع کردے ، تو کیسے دل کرے گا گیم چھوڑنے کو، عزت تو آنی جانی چیز ہے ۔۔ہے نا ؟ خیر ، کزن نے غالبا خود کو یہ کہہ کر ایک بار تو تسلی دی کہ شاید رش کی وجہ سے وہ آدمی ٹوکن ڈالنے کی کوشش کررہا ہے ، لیکن جب پیچھے دیکھا تو دکان میں شاید ہم تین چار ہی ہونگے ۔۔ میں کہیں اور لگا ہوا تھا ، یعنی ویسے ہی ہینڈل ہلا ہلا کر– خود کو تسلی دے رہا تھا کہ میں بھی کھیل رہا ہوں ۔۔ جبکہ اپنا ٹوکن پہلے ہی کھو کھاتے کرچکا تھا ، میں آج بھی خود ہی ہینڈل ہلا شلا لیتا ہوں ۔۔ بہرحال ۔میرے کزن نے جب محسوس کیا کہ اب اس آدمی کا گیم گہرا ہوتا جا رہا ے تو اس نے آرام سے کہا ، پیچھے ہٹ یار لیکن اب کیسے ہٹتا ، غالبا و ہ تو مگن تھا، اس کا ٹوکن اڈجسٹ ہو چکا تھا ، یا ہونے والا تھا ، اس نے نہیں مانا ، اوپر سے کزن کا دل بھی نہیں چاہ رھا تھا کہ وہ سٹریٹ فائٹر چھوڑ دے ۔۔ اور پیچھے کھڑا سٹریٹ فائٹر بھی باز نہیں آرہا تھا۔خیر دو تین بار وارن کرنے پر اس نے یہ کہا”کھیلو بیٹا کھیلو ٹوکن میں دلا دیتا ہوں “دل تو میرا بھی چاہا کہ چلو میں بھی ٹوکن لے لیتا ہوں لیکن اس کا جثہ دیکھ کر ڈر گیا۔۔ کزن شاید اب تپ چکا تھا اس نے تھوڑا سا آگے ہو کر ، یہ پوز دیا جیسے اس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ، پیچھے والا بھی یہی سوچ کر ہتھیار ڈالنے کے لے دوبارہ پیچھے ہوا کہ چلو اب تسلی سے کھیلتا ہوں ۔۔
تو اسی وقت کزن نے دولتی سٹائل میں اس کے ٹوکنوں پر ایڑھی رسید کی ، آج جب سوچتا ہوں ، کھوتے کے سٹائل میں گیپ لے ماری گئی ایڑھی ، کس قدر قیامت برپا کرگئی ہوگی ، تو میرے دونوں دل اچھل کر حلق میں چڑھ جاتے ہیں ۔۔ لرز سا جاتا ہوں ۔۔ خیر پیچھے کھڑے سٹریٹ فائٹر نے کند چھری سے ذبح ہونے والے بکرے کی سی چیخ ماری ، میں نے موقع غنیمت جان کر کزن کا سٹریٹ فائٹر جو کہ ڈسٹرب ہو رہا تھا ، سنبھالنے کی کوشش کی ، ذہن میں یہ تھا کہ چلو یہ بندہ تو گیا، گیم سلامت رہے ، کزن نے ہاتھ پکڑا اور کہا، ابے ڈھکن ، یہ بے ہوش نہیں ہوا جو تو اطمینان سے کھیل رہا ہے ، یہ اٹھ گیا تو اپنی ٹانگیں اٹھا دے گا، ، پلک جھپکتے ہم گی کی دکان سے باہر نکلے ور گھر کی طرف دوڑ لگا دی ، گیم والا بھی محلے کا ہی تھا ، اسے سب ملا ملا کہتے تھے ، کچھ گھنٹے گزارنے کے بعد ، شام کو کزن اس گیم شاپ پر جا کر پوچھتا ہے ۔n”ابے ملا یہ بتا وہ سنا ہے دوپہر میں ایک لڑکے نے کسی کے ٹوکن شاٹ کردیے تھے لات مار کر”nتو ملا نے بڑے بھیانک سے لہجے میں کہا ، nابے ہاں پتا نہیں کون تھا ، بہن کی آنکھ ہوگئی بے چارے کی ، کلینک لے جانا پڑ گیا تھا اسے ۔۔اس کے تو پورے چھل گئے تھے ۔۔
پوسٹ – 2018-08-27
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد