پوسٹ – 2018-03-09

رزق حلال کی آرزو اور نکاح کی کثرت پر ڈٹے رہیںn———————————————————-nnاس پوسٹ میں استعمال ہونے والے جتنے بھی “اگر” ہیں وہ سب فلسفے کی اولادوں کے لیے ہیں۔ ذاتی طور پر ، اپن اتنی تشکیک میں پڑنے کی زحمت نہیں کرتا، نہ وقت ہے ، نہ علم ، نہ دماغ ، اس لیے سیدھا سوچتا ہے اور نوٹ چھاپتا ، عورت ڈھونڈتا ہے اور نکاح کرتا ہے . اوہ سوری ۔۔ موضوع کچھ اور تھا
جی تو موضوع یہ تھا کہ nnاگر پاکستان کو اسلام کا قلعہ مان لیا جائے ، ممتاز مفتی کی تحاریر میں موجود n”فضائل پاکستان” پر ایمان بھی لے آیا جائے ۔۔ حرف بحرف اقرار بھی کرلیا جائے ، اقرار بالسان وتصدیق بالقلب کا مرحلہ بھی سر کرلیا جائے ۔۔ تو پھر یہ بات سمجھ لیجئے کہ پاکستان نے ایک بار لبرل ہونا ہے ، بلکہ ہوچکا ہے ، مکمل اظہار باقی ہے ، اب لبرل ازم کا مطلب آپ لوگ صرف “نیوڈ بیچز” سمجھتے ہیں تو یہ پھر فلسفے، بحث، اور تشکیک میں چلی جانی یے کیوں کہ اپن تو چار شادیوں کو لبرل ازم سمجھتا ہے اور ایسا لبرل ازم کے بیوی کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں اپن کے لیے بلکہ اندرون خانہ تمام مردوں کے لیے اتنا لبرل پنا ہی کافی ہوگا۔۔ بہرحال ، کل ملا کر بات یہ ہے کہ پاکستان کو لبرل مان لیں ، اظہار باقی ہے ، وہ بھی اچھا خاصہ ہوہی چکا ہے ۔۔ مکمل نام کی تبدیلی باقی ہے اس کی کوئی خاص ضرورت نہٰن ۔nnاب ایک اور اگر– nاگر پاکستان کو لبرل مان لیں اور پچھلا اگر ، کہ اگر پاکستان اسلام کا قلعہ ہے تو nایک حدیث یاد رکھیئے کہ nnحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام اس حال میں شروع ہوا کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب اجنبی ہوجائے گا جیسا کہ شروع میں تھا پس اجنبی لوگوں کے لئے خوشخبری ہے۔ (مسلم)nnگویا کہ اسلام پوری دنیا میں اجنبی ہوتا جا رہا ہے ، مسلمان اجنبیت زدہ ہوتے جارہے ہیں ان کو لیفٹ الون کیا جا رہا ہے ، پاکستان کیسے بچ سکتا ہے ؟ جنگی طرز سے نہ صحیح ، ثقافتی طرز سے ہی صحیح ۔۔ اور ایک بات سمجھ لیجئے کہ پاکستان نے کم بیک بھی کرنا ہے ۔ کیوں کہ آگے کے ادوار میں جو جنگیں ہونی ہیں اس میں اسلام کے بول بالا ، یعنی پوری دنیا میں اسلام کے بول بالا ہونے کی نوید ملتی ہے ۔۔ nnہم کیا کریں : nویٹ اینڈ واچ ، اپنا کیمپ کھونٹا مضبوط رکھیں ، اپنی بساط کی حد تک ، جتنا طرف ہے جتنی ہمت ہے اتنی ہی مضبوطی کے ساتھ جڑے رہیں ۔۔ یا مقابلہ جس میدان میں کر سکتے ہیں کریں ۔۔ ٹیکنیکل، ثقافتی ، علمی ، جیسا بھی کر سکتے ہیں ، پر کچھ بھی کریں سیاسی یا فرقے بازی والے جنجال میں پڑ کر- کسی طرح کے ایسے ہونے والے ایونٹس کو معتوب قرار نہ دیں جس سے پاکستان پر لگا دہشت گردی کا دھبہ صاف ہونے کا چانس ہو۔۔ گٹر سے نکلنے کے لیے گٹر کی دیواروں سے ہاتھ گندے کرنے پڑتے ہین ۔۔ فرق نیت کا ہوتا ہے کہ آپ نکلنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔۔
ساٹھ ستر سال کا گند ایک انقلابی جھٹکے سے صاف نہٰں ہونا ، تبدیلی کا عمل سلو ہوتا ہے اور دیرپا ہوتا ہے ۔۔ اس لیے ریلیکس کریں ۔۔ رزق حلال کی آرزو اور نکاح کی کثرت پر ڈٹے رہیں ۔ اللہ ٹھنڈی ہوائیں چلاتا رہے گا – انشااللہ

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.