پوسٹ – 2018-02-10

اونچے شملے والے بندر n———————————————————nnحیا گئی تیل لینے ۔۔ نکاح کرو اور چٹائی بچھاو۔۔ خالی خولی حیا آمیز نعرے مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، سوائے پارٹی ریلی بازی اور اپنے دھنیہ زدہ لنڈورے لیڈروں کو خوش کرنے کے۔ جب تک نکاح نہیں کرو گے ۔۔ حیا ایک حد تک کی جاسکتی ہے اور کام آتی ہے ۔۔ یہ منجن فروشی کے چکر میں حیا حیا کرتے کرتے اپنے بچے پینتیس سال کے کر دیتے ہیں ۔۔کیوں کہ ان کو بھی “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف میں جینا ہے ، یہ لوگ صرف سیاسی دکانداری کے چکرمیں ایک ہیں ، لیکن انفرادی طور پر حال وہی ہے کہ پہلے پڑھو ، لکھو نوکری کرو، پھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں بیٹے کی حیا جامد کردو اور لڑکی والوں کی شرم گیلی کردو، پھر جب بال اترنے لگیں ماتھا انچ کے بجائے فٹ میں ناپا جانے لگے، اعصابی کمزوری یا معاشرتی پریشر آنکھوں کے سیاہ حلقے بن کر واضح ہونے لگے ، پھر یہ لوگ چاند سی نوی نکور سی لمڈیا تلاش کریں۔ اس وقت نہ انہیں بیوہ یاد آئے نہ مطلقہ نہ قال اللہ نہ قال الرسول ہاں اجتماعی شادیوں کے فیسٹول ضرور ہوں لیکن بنیادی پرائمری ، کالج میں ساتھی ساتھی کھیلنے کے بجائے ساتھی بیچنے پر لگا کر رکھیں ۔۔ ان کے منہ سے یہ کیوں نہیں نکلتا کہ حیا نہیں ، یوم نکاح مناو، چودہ فروری کے تو نام میں چودہ ہے ، تو پھر کیوں حیا کی بات کرتے ہو جب کہ نکاح کے ساتھ حیا لپٹی چلی آتی ہے۔۔ اس لیے نا کہ اگر یوم نکاح کا آٖغاز ہوگیا تو پھر ڈھال کسے بنائیں گے؟nnنوٹ: اس موضوع پر صفحات کالے کیے جا سکتے ہیں لیکن حیا کا مقصد امن کا سفید رنگ اور جھنڈا ہے پر یہ اونچے شملے والے بندر کیا جانیں ادراک کا مزا۔۔
انہیں بس ایک دوسرے کے پیچھے بے سوچے سمجھے خوخیانا ہے۔۔ اور ہر ویلینٹائن پر حیا کا نعرہ لگانا ہے ، کیوں کہ نکاح کرتے انہین روایت پرستی لڑجاتی ہے ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.