کافی سے زیادہ زن مریدوں اور فلسفہ کھودنے والوں کا مستقبل
تقسیم سے پہلے کی بات ہے، امرتسر میں ایک صاحب گھریلو پریشانیوں سے دیوانے ہو گئے۔ جب کہیں کوئی بارات جاتی دیکھتے تو دوڑ کر دولہا کے گھوڑے کی لگام تھام کر کھڑے ہو جاتے اور دولہا سے دیوانہ وار کہتے ’ میاں۔۔ ابھی بھی وقت ہے، بھاگ جاؤ ‘
اے حمید کی کتاب ’ ابنِ اانشاء ۔ یادیں، باتیں، بہار، خزاں‘ سے اقتباس
مستنصر حسین بھٹو کی دیوار سے
پوسٹ – 2016-12-28
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد