کیا شراب کی ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس سے نشہ ہوتا ہے ؟ اور انسان ہوش و حواس سے بیگانہ ہوجاتا ہے ؟ یعنی ہر نشہ آور چیز اس لیے حرام ہے کہ اس سے انسان ہوش حواس سے بیگانہ ہو کر آدمیت کے درجے سے نیچے آگرتا ہے ۔۔ ؟ بس اسی لیے منع ہے ؟
کیا شراب کی ممانعت صرف اس لیے ہے کہ اس سے نشہ ہوتا ہے ؟ اور انسان ہوش و حواس سے بیگانہ ہوجاتا ہے ؟ یعنی ہر نشہ آور چیز اس لیے حرام ہے کہ اس سے انسان ہوش حواس سے بیگانہ ہو کر آدمیت کے درجے سے نیچے آگرتا ہے ۔۔ ؟ بس اسی لیے منع ہے ؟
اترك رد