حمزہ عباسی ،اور کاکڑ چائے والا nnمیرے ایک بہت اچھے دوست مطلب being a human بہت اچھے دوست۔۔ جو کچھ زیادہ پڑھ لکھ گئے ۔۔ ایک دن کہنے لگے بلکہ اکثر قادیانیوں کو انسانیت کی چادر اوڑھا کر ان کو چھوڑ دو سب کو فریڈم آف اسپیچ ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ اچھا اس بندے کو میں پچھلے تیرہ سال سے جانتا ہوں ۔۔ صرف باتوں کا مداری ہے ۔۔ نہ کبھی ریاست کے خلاف کچھ کرنے کی ہمت نہ ہی کچھ لکھنے کی نہ کچھ بولنے کی ۔۔ بس آپ سمجھیں ۔۔ بچپن میں منٹو پڑھا )اب اس میں منٹو کا کوئی قصور نہیں (بعد میں اچھے انگریزی اسکول سے تعلیم حاصل کرلی اور اچھا والا اسٹوڈنٹ بن گیا۔۔ اور کافی سے زیادہ اچھا بندہ ۔۔ تعلیم کے میدان میں ۔ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے حاضر ۔۔ کافی لوگوں کو ذاتی ہیسوں سے پڑھا بھی رہا ہے ۔ کسی بھی کمرشل پروجیکٹ میں initiative کی حد تک ڈسکشن کا شائق ۔۔ لیکن کسی volunteer پراجیکٹ میں دل کھول کر execution کرنے والا غرض یہ کہ مجموعی طور پر ایک بے ضرر انسان ۔۔ بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا ۔۔اور ہاں مجھ سے زیادہ نمازی پرہیزگار ۔ مطلب میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں ۔۔ کہ تیرہ سالوں میں مجھ سے کہیں کم گناہ کئے ہوں گے ۔۔ چاہے اخلاقی ہوں یا ادبی ۔۔اور ہاں مجھے فخر نہیں اپنے گناہوں پر ۔۔ بس سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں میرا بہت عزیز دوست تھا اور اب بھی ہے ۔۔ اور رہے گا ۔۔ کیوں کہ تیرہ سال کا ساتھ نظریات سے اختلافات پر نہیں توڑا جاتا۔۔ خیر تو کچھ سال قبل وہ زیادہ پڑھنے لکھننے اور برگرز میں بیٹھنے کے بعد )اطلاعا عرض ہے کہ برگر وہ پیدائشی ہے یہ الگ بات ہے کہ بن کباب سے بھی گیا گزرا برگر ہے ( اسلام ، الحاد ۔ لبرل ازم اور فریڈم آف اسپیچ کھیلنے لگا اور ہاں اس کی ذات سے کوئی سروکار نہیں ۔۔ اسلیے ذات سے منسلک واقعات پر کوئی بات نہیں کروں گا۔۔ ہاں نظریاتی طور پر محترم ایک چھوٹے سے “ندیم ایف پراچہ” ہیں ۔۔ اور لوگوں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں کہ جو سوال اٹھانا اس قدر معزز پیشہ سمجھتے ہیں کہ اکثر ان کے سوالوں میں یہ کنفیوزن ہوتی ہیے کہ میری فلانی چیز لمبی اور گول کیوں ہے ۔۔ چوکور اور چپٹی کیوں نہیں ۔۔۔پھر زیادہ پڑھنے لکھنے کا انجام یہ ہوا کہ دماغ کچھ زیادہ کھل گیا۔ بھائی صاحب پہلے مڈل کلاس کے چکر میں ایم کیوایم کو سپورٹ کرنے لگے ۔۔ آہستہ آہستہ ڈاکٹر عبدالسلام اور پھر قادیانیوں کو انسان قرار دے کر جان بخشی پر زور دینے لگے ۔۔کہ بلکل حمزہ عباسی کی طرح ۔۔ “یار اگر سنبھل نہیں سکتا تو پاکستان کو disintegrate ہوجانا چاہئے ۔۔ وغیرہ وغیرہ ایسی عجیب الخلقت تھیوریز۔ لیکن صرف تھیوریز ۔۔پریکٹکل کی ان کی اوقات ہے نہیں کیوں کہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد اور پھر منہ کے علاوہ بھی کئی شگافوں میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ۔۔ ہاں بندہ struggle کرنے والا ہے مانتا ہوں ۔۔ اس سے کافی کچھ سیکھا ہے پروفیشنل لائف میں ۔۔ کوئی شک نہیں ۔۔ لیکن جہاں بات ایم کیو ایم ، پاکستان اور قادیانیت کی آجائے وہاں تو ہم اپنے باپ کے نہیں ۔۔۔ یہ تو پھر تیرہ سالہ دوستی تھی ۔ بلکہ ہے ۔۔ تو جناب ایک دن ہم ان کو لیے لیے صدر جا پہنچے ۔ جہاں ایک طرف پریڈی تھانہ ہے ۔۔۔ اور دوسری طرح پہلے سی آئی ڈی اور اب ایس آئی یو کا دفتر ۔۔ وہاں ہم کوئی رات گیارہ بجے کاکڑ کے چائے کے ہوٹل پر جا بیٹھے ۔۔ شنید ہے کہ وہاں اکثر سادہ لباس والے فرشتے گھوم رہے ہوتے ہیں ۔۔ اور تو اور ۔۔ وہاں ہم نے اپنے دوست سے با آواز بلند درخواست کی اب کرو وہ باتیں جو تم چیٹ یا پھر بند کمروں میں کرتے ہو۔ چلو انقلاب لاتےہیں ۔۔ سیدھی بات ہے ۔۔ ہوا تو اپنی بھی خراب ہو رہی تھی لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ نبی کی ذات پر میرے ماں باپ قربان تو بس بات ختم ۔۔ وہاں سے ان صاحب کو جو چپ لگی وہ آج بھی قائم ہے ۔۔ اب بھی یہ گھر بلاتے ہیں لیکن کاکڑ نہیں جاتے ۔۔ قصہ مختصر یہ کہ حمزہ عباسی کے سوالات کے جواب میں پیمرا نے اسے کاکڑ ہوٹل پر بیٹھا دیا ۔۔ ہن آرام ای ۔۔ یہ شوبزنس کا بندہ ہے ۔۔ اور اس سے پیمرا نے آکسیجن چھین لی ۔۔ اب یہ بس پیارے افضل ہی کرے گا ۔۔

اترك رد