پٹرول اوپر کر کے ڈالنا۔n”پچاس کا ڈال دے ۔۔۔ اور اوپر کر کے ڈالنا”، جنید نے پٹیل پاڑہ کے پسماندہ سے پیٹرول پمپ پہ پمپ بوائےسے کہا۔۔ سخت گرمی میں موٹر سائکل سے زیادہ لوگوں کا رویہ اسے تنگ کرتا تھا ۔۔ ایک تو چار بجے کا وقت ، اوپر سے اسی اہم میٹنگ میں شرکت کرنا تھی ۔۔ ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ باس کی کال آگئی ۔۔ جنید نے “اسکائپ میٹنگ” کی گولی فٹ کرنے کی کوشش کی لیکن باس صرف باس نہیں تھا اس نے ایم بی اے حلال میں کیا تھا مجبوری میں نہیں ۔۔ وہ ان گھاٹوں کا پانی پیا ہوا تھا۔ اس نے کہا فورا آفس پہنچو۔۔ مرتا کیا نہ کرتا بغیر سحری کا روزہ ، گرمی ، اور پٹیل پاڑہ سے آگے تک زیر تعمیر روڈ۔۔ اس کے روزے پرجلن تو مچ ہی رہی تھِی لیکن وہ سب مجبوری سمجھ کر جھیل جاتا ۔۔ اگر پٹرول پمپ پر وہ پمپ بوائے اپنے اہل زبان ہونے کا مظاہرہ نہ کرتا ۔۔ جنید بیچارہ جلدی میں تھا۔۔ اس نے پمپ والے بچے سے کہا کہ پٹرول نوزل اوپر کر کے ڈالنا۔ بچہ شریف تھا اس نے من و عن ویسا ہی کیا۔۔جیسا جنید نے کہا۔۔ ابھی میٹر پر چالیس کی ریڈنگ تھی ۔ کہ پیسے لینے کے لیے ایک دوسرا شخص سامنے آیا۔۔ اس نے پہلے پیسے پکڑے اور پھر اس بچے سے پنجابی ٹائپ سرائکی میں کہا “اوئے ۔۔یہ نوزل اوپر کر کے کیوں ڈال رہا ہے ۔۔” اب جنید کیوں کہ “اہل زبان ” نہیں تھا اس لیے اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔ بچَے نے جنید کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ “انہوں نے کہا ہے کہ ایسے ہی ڈالو”۔۔ شاید پیسے پکڑنے والے کو ڈالنے کا یہ طریقہ پسند نہیں آیا ۔۔اس نے پھر خلائی مخلوق والی زبان میں کہا ۔۔ جس میں سے جنید کے کان میں جو لفظ پڑے وہ یہ تھے ۔۔۔ “اوئے تو چھوڑ اسے” ۔۔ اس کے بولتے بولتے پٹرول کے میٹر پر پچاس کی ریڈنگ آگئی تھی ۔۔ پٹرول ڈل چکا تھا۔ ادائیگی ہوچکی تھی ۔۔ تو پھر جنید نے سوچا کیوں نہ پمپ والے سے کچھ سوال و جواب کیے جائیں ۔” دیر تو ہوگئی ہے ۔ گرمی میں خوار بھی ہوگیا ہوں ۔۔ اب ایسا کرتا ہوں ۔ ذرا اس کو افطار کرواتا ہوں”۔ یہ سوچ کر جنید نے جو سوال جواب کیے وہ کچھ یوں تھے ۔جنید: “کیوں چھوڑ ؟ پیسے دے کر پٹرول خرید رہا ہوں نوزل اوپر کروں یا نہیں آپ کو کیا اعتراض”؟پٹرول بوائے: آئیں بائیں شائیں ۔۔ (لہجہ اکھڑ لیکن الفاظ اسی زبان کے جس میں وہ پہلے بول رہا تھا)جنید: مجھے یہ سمجھ میں آتی ہے تمھاری زبان، میں سب سمجھ رہا ہوں جو تم نے اس بچے کو کہا تھا نا کہ پٹرول کی نوزل اندر کردو چھوڑو اسے ۔۔اتنی عقل ہے میں اشارے سمجھتا ہوں پمپ بوائے: مزید اکھڑ لہجے میں : ہاں تو میں نے کیا کہا ہے ۔۔ یہی تو کہا ہے کہ اندر کر کے ڈال دے ۔۔جنید: کیوں ۔۔ گاہک میں ہوں ۔ پیسے میں دے رہا ہوں ۔۔ تم بس پیسے لیتے اور یہ جو بچہ ڈال رہا ہے پٹرول اس کو ڈالنے دیتے۔زیادہ تر مرد منطق کے آگے لیٹ جاتے ہیں ۔ لیکن اس قبیل کے افراد کچھ زیادہ چاہتے ہیں ضروری تھا کہ اس کے ساتھ ذرا طنزیہ گفتگو کی جائے یہی سوچ کر جنید نے بائک سائڈ پر کی ۔۔ اور اس سے پوچھا ۔۔۔”روزہ رکھا ہے ؟پمپ بوائے : الحمد اللہ جنید:” لگ رہا ہے کہ رکھا ہوا ہے ۔۔ “جنید: سحری کے بغیر رکھا تھا شاید ۔ ہے نا ؟ پمپ بوائے : اللہ کا شکر ہہے سحری کی ہے جنید: افطاری پیٹ بھر کر رنا۔۔ ٹینشن کم لیا کرو۔۔ خاص طور پر روزے میں یہ کہتےہوئے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ا۔۔پمپ بوائے :” پھوں پھاں پھوں پھاں “اب جھگڑا تو کرنا نہیں تھا سو بس اتنا کرکے جنید صاحب آفس نکل لیے ۔nnمورال : اخلاقی منجن ہر جگہ نہیں بیچنا چاہئے ۔۔ چاہئے رمضان کی حالت ہو یا احرام کی حالت۔۔ ہمارے کچھ مطمئن بیغرتوں نے بزدلی اور منافقت کا نام ڈپلومیسی اور میانہ روی رکھ چھوڑا ہے ۔۔

اترك رد