نوے کی دہائی آخری سانسیں لے رہی تھِی جب اس کی جوانی نے آنکھیں کھولیں ۔۔ nابھِی کسلمندی سی طاری تھی اس کے جذبات پر۔۔ کہ ایک اتفاقیہ سفر نے اسے کراچی کے افق کے اس پار۔۔ صحرائے تھر کا کا مسافر بنا دیا۔۔ وہ ایک ریسرچ پروجیکٹ کے سلسلے میں صحرا میں آیا تھا۔۔ جب اس کی ملاقات ہالا نامی لڑکی سے ہوئی ۔۔یہ وہ دور تھا جب لڑکوں کو جواد احمد کے پنجابی گانے سن سن کر ہر گاوں کی لڑکی اپنی اپنی لگتی تھی ۔۔ عمیر بھی سارے سفر کے دوران “اچیاں مجاجاں والی” سنتا آیا تھا۔۔ یہاں آکر پتا چلا۔۔ حسن تو ریت کی ماند اندرون سندھ بھی بکھرا ہے ۔۔ پر کچھ وقت لگتا ہے نظر کو نگاہ ہونے میں۔۔ ہالا وہاں کے ایک شتربان کی اکلوتی اولاد تھِی ۔۔ وہی گاوں کی عام سی لڑکی عام سی کہانی ، عام سی جوانی ۔۔ لیکن جنید جمشید کی “سانولی سلونی” سن سن کر اس دور کے لڑکے صحرا میں ہی سہرا باندھنا چاہتے تھے ۔۔ ہالا کا حسن بس اس کے چہرے پر پھیلا نمک تھا۔۔ اور وہی سانولا رنگ۔۔ بلکہ کسی حد تک جھلسا ہوا۔۔یہ اتفاق نہیں عمیر کا پلان تھا کہ اس نے اپنے ریسرچ کے لیے صحرا کا وہ حصہ چنا جہاں ہالا کا باپ گائیڈ کے فرائض انجام دیا کرتا۔۔nnہالا کا حلیہ اور اس کے حسن پر روشنی کل ڈالیں گے ۔۔ اور فکر نہیں کریں روشنی ہی ڈالیں گے۔۔۔ عمیر اپنا جگر ہے ۔۔ اور ہالا بھابھی۔ لیکن حلیہ تو کہانی کی ڈیمانڈ ہے ۔۔سوری یار وہ اچیاں مجاجاں والی سن لیا دوبارہ تو یہاں الفاظ تھوک دئے ۔۔ جذبات کی تین پانچ ہونے پر معذرت۔

اترك رد