لال بیگ – صحفہ ۲nnگزشتہ سے پیوستہnnویسے بھی روز ایک ہی روٹین ، آفس ،گھر ، گھر، آفس، آفس کا کوریڈور ، آفس کی لفٹ ، پان والے کے پاس کھڑے کھڑے نگاہوں کے نذرانے ، نہ وعدے نہ وعید ، بس دونوں منگنی شدہ ہوگئے ۔۔ اور فیصلہ کرلیا کہ پیار محبت ، تعلق ، واسطہ ، یہ سب اپنی جگہ لیکن ضرورت اور مجبوری سب سے پہلے ۔۔ بلکہ فیصلہ انہوں نے کیا کرنا تھا۔۔ یوں سمجھئے کہ عینی کے استخارے کے جواب میں ہاں قدرت نے کی ۔۔ اور ہمت عفان نے ۔۔ ویسے بھی وقت نے اتنا تو سکھا دیا تھا کہ لڑکا وہی مخلص جو برات کی گاڑی میں دلہا بن کے بیٹھے ، اور لڑکی وہی وفادار جو اس دلہن بن کر آئے ۔۔ چاہے وہ دلہن نہ بھی ہو ۔۔ ارے بھئی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ عین ٹائم پر دلہن طوطا چشم ثابت ہو اور لڑکا اتنا بہادر ہو کہ شادی ہال میں دلہن سے شگن کے گلدستے لینے والیوں میں سے کسی کو دلہن بنا کے اپنی زندگی آگے لے چلے ۔۔ کافی فلمی ہے ۔۔ لیکن ہمت تو فلمی نہیں ہوتی نا۔۔ زندگی سے زیادہ دلچسپ فلم کوئی ہوئی ہے بھلا۔۔ بس ایک بیک گراونڈ میوزک کی کمی ہی تو ہے ۔۔ وہ ہمارے اطراف ہونے والا شور پورا کر دیتا ہے ۔۔ یہی شور تھا جس کو لے کر عفان اور عینی کی منگنی میں بھی اور اس کے بعد بھی کافی تو تو میں میں ہوتی رہی تھی ۔۔اچھنبھے کی بات تو یہ تھی کہ اس کیس میں رشتے داروں نے چوں چوں نہیں کی۔۔ نہ کوئی پھپھو کا لڑکا آڑےآیا نہ کوئی خالہ کی بیٹی ولن ثابت ہوئی ۔۔ بس پھلجڑیاں چھوٹتی رہتی اور وہ لوگ منگنی والی ڈیٹس میں مگن رہتے ۔۔ پہلے قضیہ جو اس سارے مدعے میں کھڑا ہوا اس کا نام “فرزانہ ” تھا۔۔جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوتے تھے ان کی منگنی کو عفان نے سوچا ہوا بھی تھا کہ ساری کہانیاں سنا دے گا ، دوستی ، یاری ، بیوپاری ، جس جس سے ملا ، دیکھا ، چھوا، ظاہر ہے ایک حد تک ہی تھا۔۔ لیکن جو تھا وہ اعمال نامہ بائیں ہاتھ سے عینی کو دینے کا فل پروگرام بنائے بیٹھا تھا۔ ساحل سمندر والے وہ تھے نہیں تو اس سے تھوڑا پرے ۔۔ میک ڈونڈلڈ میں ماحول بنا کر وہ اپنی منگیتر کو آئس کریم کھلا رہا تھا۔۔ جب اس کا فون بجا۔۔ فون ٹچ تھا اور کال کرنے والی ٹچی ۔۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ فرزانہ ہے ۔ غیر معروف نمبر تھا۔۔ وائی فائی وہاں کم نہیں کر رہا تھا جو وہ نیٹ پر سے پتا لگا لیتا۔۔ کہ کون کال کر رہا ہے ۔۔ دوسری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ۔ لاڈ پیار میں آئس کریم کھاتے ہوئے ۔۔ عینی نے فون پکڑ اور اسپیکر پر ڈال دیا۔۔ اب عفان تو ویسے بھی وہاں تک شریف تھا۔۔ پکڑا جو نہیں گیا ۔۔ تھا۔۔ بس جو پکڑا جائے وہ چور ہوتا ہے نا۔۔ اور جس کو موقع نہ ملے وہ شریف یہاں تو بیچارہ سب بتانے لگا تھا کہ یہ ہوگیا۔۔ کال کنیکٹ ہوتے ہی ۔۔ عفان ماحول سے ڈس کنیکٹ ہوگیا۔۔ آپ خود تصور کریں ، آپ نئے نئے منگنی شدہ ہیں ۔۔ ٹھیک ہے کہ کوئی بہت زیادہ عہد و پیمان نہیں ۔ لیکن انگوٹھی بھی کسی عہد سے کم ہوتی ہے کیا ؟ اور آپ بڑی مشکلوں سے ہمت کر کے اپنی نئی نویلی منگیتر کو جو عمر کے لحاظ سے اب تقریبا دلہن بننے کو ہے ۔۔ لے کر جاتے ہیں ۔۔ دور دراز ساحل کے میک ڈونلڈ پر ۔ ابھی آپ الفاظ کو چن ہی رہے ہیں کہ آپ کے موبائل فون کے اسپیکر سےکسی بھی فرزانہ کی کال آتی ہے ۔ ارے بھی آج کل سب کی کوئی نہ کوئی فرزانہ ہوتی ہے ۔ نا۔ جس کو ہم “ایکس” کہتے ہیں ۔۔ اور وہ آواز کٹھور انداز میں آپ سے آپ کا نام لیتی ہے اور کہتی ہے ۔۔ “بس یہی تھی تیری محبت “۔ “دیکھ لی تیری وفا” ۔۔ تو آپ کیا کریں گے ۔۔ آپ کی چونتیس سال کی میچیورٹی کی تو کھاٹ اور کھٹیا کھڑی ہوجائے گی نا۔۔ ارے سوچیں ۔۔ بتائیں کے آپ کا کریں گے ۔۔ تو بس اب ویسا ہی کچھ کرنے کا ارادہ تھا ہمارے پیارے عفان کا۔۔ nn- جاری ہے

اترك رد