پوسٹ – 2015-11-14

وکی ڈونر کا ڈونیشن ناپاک کیوں ؟(حصہ او ل )nnدیکھو یار مسئلہ گناہ ثواب کا نہیں ہے ، مسئلہ حلال حرام کا بھی نہیں ، نہ ہی اس پر فیصلے ہوتے ہیں ، نہ ہی اس پر سزا جزا ہوتی ہے ، نہ اس پر جنت جہنم ملتی ہے ، مسئلہ یہاں صرف اور صرف ایک ہے ۔ خالق کے حکم کی تعمیل ، وہ کہے دن ، تو دن ، وہ کہے رات تو رات، بس معاملہ اتنا سا ہے ، باقی تو صرف ہماری اپنی فنکاریاں ہیں ۔بات شروع کرتے ہیں انسان کی ابتدا سے ، یعنی تخم سے ، انگریزی میڈیم والوں کے لیے عرض ہے کہ تخم اسے ہی کہتے ہیں جو Vicky donor اپنی فلم میں donate کرتا رہتا ہے ، تو جناب ، بچپن سے بلکہ اس سے پہلے سے ہمیں پتا ہوتا ہے ، کہ اس سے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں ، ہم نے نماز کے لیے سامنے والے کو گولی فٹ کرنی ہو تو کہتے ہیں یار کپڑے صحیح نہیں ، یار لوگ کسی کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ابے رات کو اس کا ٹرک کلٹی ہوگیا تھا ، وغیرہ وغیرہ ، کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ایسی کیا چیز ہے جو جب ہمارے جسم کے اندر ہے تو ناپاک نہیں ، اور جب باہر آجائے تو ایسی ناپاک کہ غسل کی نوبت آجاتی ہے ، یعنی اگر آپ نارمل بول براز کی بات کریں تو استنجے سے بات بن جاتی ہے ، ، لیکن بات اگر ٹرک کلٹی ہونے پر آجائے تو پھر میرے بھائی سردی ہو یا گرمی ، خزاں ہو یا بہار ، آپ کو نہانا ہی پڑے گا ، گندے سے گندا غلیظ اور بظاہر ہیرونچی نظر آنے والادوست بھی آپ سے یوں دور بھاگے گاجیسے آپ کو برص لگ گئی ہو ، بچپن میں ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ Vicky donor کے اس ڈونیشن کے ایک قطرے میں تقریبا 80 قطرے خون کے ہوتے ہیں ، بالکل ہو سکتا ہے ،لیکن بات پھر وہی ہے سوال پھر وہیں ہے کہ کیلشیم ، کلورائڈ ، سیٹریٹ ، گلوکوز ، یوریا ، سوڈیم ، لیکٹک ایسڈ، وغیرہ سے بنے اس مرکب میں ایسا کیا ہوتا ہے جو ہمیں نجس اور ناپاک کردیتا ہے کیوں کہ یہ چیزیں تو ہمارے جسم میں ویسے بھی کسی نہ کسی شکل میں گردش کر رہی رہی ہوتی ہیں۔ nnجاری ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.