یہ صحیح ہے بھائی ، اگر بندی جماعتن ہو تو بندہ بھی جماعتی چاہئے
اور اگر بندہ یا اس کا گھرانہ جماعتی ہو تو لڑکی بھی جماعتی ہی چاہئے nیعنی اپنے اپنے خاندانوں میں اسلامی نطام کے لیے کوشش کرتے رہو nباہر نہیں نکلو، اگر کوئی بندی بے پردہ ہے یا کوئی لڑکا آپ کے مائنڈ سیٹ یا پارٹی کا نہیں ہے تو کسی جماعتی یا مولوی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس کو سدھارنے کی نیت سے اپنے ہاں رشتہ کرلیں ، یہ بھی تو مذہبی اور ازدواجی تعصب ہی ہوا نا۔۔ nاور باتیں کرتے ہیں چودہ کروڑ کو سدھارنے کی nn#پونکا
پوسٹ – 2015-09-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد