پوسٹ – 2020-03-06

لکھنے کی انسپریشن اور لاشعور کا کردارnnاگر ہم خود سے ربط قائم نہیں کریں گے ، اگر ہم ، اپنے ہی آپ سے شرمائیں گے ، اگر ہم ، اپنے آپ سے دوری اختیار کریں گے ، اور صرف ، شعوری دماغ سے ہی لکھتے چلے جائیں گے ، اگر ہمیں بہت زیادہ مصدقہ ہونے کی ضرورت پڑے گی ، اگر ہم ، شعوری طور ، اپنے ہی ذہن کی تصدیق یعنی اس ذہن کی جو ہر وقت سوشتا رہتا ہے nاس کی تصدیق کے محتاج ہو کر لکھنے کی کوشش کریں گے تو، عین ممکن ہے کہ ہم سوچتے ہی چلے جائیں nاور ہم اپنے آٹو پائلٹ یعنی تحت الشعور پر اعتبار یا بھروسہ نہ کرسکیں ۔
یاد رکھیں ، یہ والا سسٹم یعنی ، آٹو پائلٹ/لاشعور ، اور شعور کا ملاپ ، بہت پیچیدہ لیکن بہت متحرک ہے ، ہمیں اس پورے کے ساتھ حاضر رہنا ہے ، لیکن ، بے چینی اور بزور قوت نہیں ۔
پیار سے ، آرام سے دلار سےتصوف سے منسلک افراد کہتے ہیں کہ ، شعور ، لاشعور کا پہرے دار ہے ، اور یہ کبھی بھی ، نہیں چاہے گا کہ ہم ، اپنی مرضی سے ، شعور کو بائی پاس کر کے ، لاشعور تک رسائی کرسکیں ، اس لیے ، تخلیقی معاملات میں بھی ، اسے یعنی شعوری دماغ کو پچکار کر ،بہلا کر ، اسے کسی اور کام میں لگا کر ، خود کی گہرائیوں اور باطنی رازوں پر فوکس کر کے ، یعنی کم از کم اس بارے میں سوچ کر ہی ، کہ ایسا ہوتا ہے کہ ، ایسا مان کر ہی ، کوشش کی جاسکتی ہے ۔
پھر دیکھئیے ، تخلیق کے لیے حساسیت کی ضرورت پڑتی ہے یا عقل و خرد کی ۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.