لکھنے کی تحریک میں لاشعور کا کردارnnمنطقی سوچ بہرحال ضروری ہے اور تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انسان شعوری طور پر سوچنا ہی چھوڑ دے لیکن یہ بات یہاں پر قابل ذکر ہے کہ زیادہ سوچ رہا سوچتے چلے جانا یا اوور تھنکنگ کے تخلیق کو مار دیتی ہےnnاٹھارہویں صدی میں ایک ، ماہر نفسیات /فلسفی گزرا ہے ، ولیم جیمز ، اس نے پہلی بار ، امریکہ میں ، ، نفسیات کو بطور علم یا نصابی کورس کے طور پر ، پڑھانے کی پیش کش کی ۔ولیم کو، انیسویں صدی آخری ادوار کا ، عظیم ترین فلسفی ، اورمفکر ، مانا جاتا ہے nوہ اپنی کتاب ، nnThe Gospel of Relaxation n(بشارت اطمینان)nمیں لکھتا ہے کہ ، n”ہم ، پیداوار یعنی پراڈکٹ ،، کو لے کر ، زیادہ پریشان ہوتے ہیں ، اور ذہنی دباو محسوس کرتے ہیں ، جب کہ ہمیں توجہ ، پیدوار یعنی پروڈکٹ کے پراسیس یعنی عمل پر رکھنی چاہئے ، مزید یہ کہ، اگر ایک کام کرنے کا فیصلہ لے لیا گیاہے ، اور اب اس کی تکمیل کا آغاز ہو رہا ہے یعنی پراسیس شروع ہو رہا ہے ، اس پر عمل شروع ہو رہا ہے تو یکلخت نتائج کے بارے، سوچنا ، پریشانی ، پرواہ ، بے چینی ، ڈس مس یعنی معطل کردیجئے ۔”nnولیم جیمز کی کہی گئی بات کو ، ہم اگر موجودہ موضوع پر منطبق کریں تو ، اس کیس میں ، ہمارے پاس پروڈکٹ تحریر/کتاب ہے ، اور پراسیس ، لکھتے رہنا ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ منطقی ، یعنی شعوری سوچ بہرحال اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کا ایک مخصوص وقت ہے، اس کی ایک مخصوص جگہ ہے ، اس کی ترجیح کی ایک حد ہے۔اور جب وہ مکمل ہوجائے، جب وقت گزر جائے تو اس کو کنسرن کرنا چھوڑ دیجئے ، اس کی پرواہ چھوڑ دیجئے، پروسیس پر توجہ مرکوز کیجئے nSecond Guess کی علت سے نجات پائے ، بس یہیں سے شروع ہوتا ہے وہ مرحلہ جو اس تحریر کا جوہر ہے ، یعنی اپنے آپ کو ، لاشعور کے سپرد کردینا ، مکمل انہماک اور یقین کے ساتھ ۔
پوسٹ – 2020-03-07
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد