پوسٹ – 2020-03-19

اکثر فری لانسرز کمیونیٹی کو ، nnکچھ بلکہ ، اکثر پاکستانی ، “سوشل” مفعولوں کے منہ سے اس طرح کے جملے سننے کو ملتے ہوں گے۔nn”گھر بیٹھ بیٹھ کر، کمپیوٹر موبائل کے چکر میں پڑھ پڑھ کر ، رشتے نہیں نبھانے آتے nنہ شادیوں میں جاتا ہے nنہ ، کسی کی خوشی غمی میں شریک ہوتا ہے
نہ کسی دعوت میں ، جب دیکھو کمپیوٹر یا موبائل nہر وقت فیس بک ، nنہ باہر کی کچھ خیر خبر ، نہ دنیا میں کیا چل رہا ہے ، کچھ پتا nایسے زندگی گزرتی ہے ؟ گھر میں بند ہو کر ؟
بس ہر وقت کام کام کام nبھئی جاو لوگوں میں ملو nرشتے داروں میں بیٹھو
طور اطوار سیکھو ، nلوگوں سے تعلقات بناو
انسان ایک سماجی جانور ہے nnاس طرح کے بہت سے نابغے آپ کے ارد گرد بھی من من من کرتے رہتے ہوں گے nاکثر، منہ سے میٹھے ، اندر سے زہریلے
موسٹلی رشتے تعلق نبھانے کی تلقین ، سب سے زیادہ وہی کر رہے ہوتے ہیں nجو مشکل وقت میں یا کسی بڑے فیصلے میں، سپورٹ کرنے کے بجائے ، سب سے پہلا چھرا مارتے ہیں ، nظاہر ہے ، اندر سے خالی افراد ، ہی رشتہ رشتہ تعلق تعلق کرتے ہیں nجنہیں ادراک و شعور ہو ، وہ رشتے تعلق کی مارکٹنگ کے بجائے ، نبھا کر دکھاتے ہیں nnایسے جتنے بھی افراد جو ، سوشل ہونے کا مشورہ دیں ، nاب ان سے پوچھو ، nجاو نا اب رشتہ نبھاو
کسی کی تعزیت ، تیمارداری ، معمولات زندگی ، خوشی غمی ، اگر کوئی ہو رہی ہو تو ، شریک ہو ، کیا ہوا اب انسانیت کو ؟
کیا ہوا طور و اطوار اور اخلاقیات کو ؟
بس اتنا ہی گودا تھا ؟nnوہ کیا کہتا ہے ٹومی ؟nnEveryone’s a whore. We just sell different parts of ourselves.’

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.