پوسٹ – 2020-05-03

علمیت کا واہمہ – Illusion of Knowledge – دوسری قسطnnعلمیت کا واہمہ
اب بات یہ ہے کہ ، کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں ہمیں “لگتا” ہے ، کہ ہم علم رکھتے ہیں ، لیکن ایسا ہمیں ان کے وجود کا ادراک تک نہیں ہوتا، یا ان کے بارے میں علم نہیں ہوتا ہمیں بس “لگتا ” ہے کہ ہم فلاں چیز / فلاں ہنر/فلاں علم جو جانتے اور سمجھتے ہیں ۔
اس “لگنے” کو
علمیت کا واہمہ کہا جاتا ہے ۔
یعنی
Illusion Of Knowledgenn.ایک امریکی ، یونی ورسٹی ، کے تین ماہر ین نفسیات کی ایک تحقیق کے مطابق ، انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال، خصوصا، اس کو ، معلومات کا مرکزی ، منبع سمجھتے ہوئے اس کے استعمال میں اضافہ ۔ لوگوں میں ، علمیت کی پھونک بھرتی جارہی ہے ، ان کی علمیت کا ، وہم ، غبارے کی طرح پھول رہا ہے،انہیں یہ “لگنے” لگتا ہےکہ ، انٹرنیٹ کی وجہ سے ، وہ علم و فضل میں بڑھ گئے ہیں ۔
ایسی کیفیت کے طاری ہونے کا مطلب ضروری نہیں کہ آپ حقیقت میں بھی کچھ جانتے ہو۔
، یہ بھی ممکن ہے ، کہ آپ کو یہ “لگتا” ہو کہ آپ کی انفارمیشن ، ایک مخصوص معاملے میں بہت ہے ، اور معاملہ اس کے الٹ ہو ، یعنی آپ کو ، بہت تھوڑا سا علم ہو، ہم ، اپنے تئیں ، معلومات / انفارمیشن ، حاصل کر کے ، انہیں ۔ علم/نالج سمجھنے لگے ہیں ۔
جب کہ ، انفارمیشن ، اور نالج در حقیقت دو الگ چیزیں ہیں ،

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.