کارپوریٹ ، رویے اور مشاہدے ، nپری لاک ڈاون ، لاک ڈاون ، پوسٹ لاک ڈاون ۔nnیہ بھی ایک بڑی وجہ ہے ، کہ ، کمپنیاں ، اپنے “ڈٰیش” قسم کے ، سینئر ایمپلائز کو nآفس نہیں بلا رہیں لاک ڈاون میں ، کیوں کہ ، انہیں پتا ہے کہ ، یہ سالے ، جو کام ، عام ایمپلائی ، چار گھنٹے میں کرتا ہے ، مثلا ، کسی کوڈ کا بگ ریموو کرنا
وہ ، یہ سینیر ادھیڑ عمر بڈھے ، محض پندرہ بیس منٹ میں کر کے nباقی یہ کرتے پھرتے ہیں nاور پھر ان کو بلاو تو گاڑی ، سگریٹ ، رمضان نہیں ہے تو لنچ ڈنر بھی آفس کے سر پر پھوڑ کر جاتے ہیں nاور آفس ہی کی یو ایس بی مں ، آفس ہی کے نیٹ سے ، آفس ہی کے سرور پر ، موجود سپیس میں ، اپنا مال ایسے سیو رکھتے ہیں ، کہ ، اپر مینجمنٹ بھی ، کچھ نہیں کہتی ، کیوں کہ ، جانتے ہیں ، ان بڈھوں کو فائر کرنے کا مطلب ، اپنی کمپنی کا نقصان ہے ، انہیں تو کوئ بھی ہائر کر لے گا ، پر ، کمپنی کو ایسے تجربے کار خنجر کہاں سے ملیں گے ۔۔ وہ چار گھنٹے اور پندرہ منٹ کے مخمصے میں پھنسے ، یہ نقصان برداشت کرلیتے ہیں
پھر ان بغریتوں کا ، “آن سائٹ” وزٹ پہ فرمائیشں nnکہ nآج بیف نہیں مٹن بریانی ہوجائے اور سگریٹ بینسن کے بجائے ڈن ہل کرلیں ، کیوں کہ ، گلا تھوڑا خراب ہے ، اور ہاں ، پان میں سونف خوشبو زیادہ تمباکو کم ، اور پلیز ، جاتے ہوئے اے سی بائیس پر کردیں nnیہ سب حرکات کی وجہ سے کمپنی پھر ایسے بڈھوں کو کہتی ہے nسر جی آپ ورک فرام ہوم ہی کرلیا کروnnذاتی طور پر تو می اس موقف کوسپورٹ نہیں کرتا، پر ، بادی النظر میں کمپنی کو اپنی جوانیاں دے دینے والے ، تجربے کو اس نہج پہ لے جانے والے کہ ، nچار گھنٹے کا کام ، پندرہ سے بیس مںٹ میں کرلینا
ایسے لوگ ، اگر nاتنے لاڈ اٹھوارہے ہیں ، اور کمپنی فائر نہیں کررہی ہو ، تو سانوں کی ۔۔ چک کے رکھو ۔۔
اپن کے لیے تو
رشک آمیز تو یہ اسکرین شاٹ ہے
ویسے بھی کمپنی اور ایمپلائے کے معاملے میں ، چوتھے محلے سے آکر ، اگر مگر کرنے والے ، ہم کون۔۔
پوسٹ – 2020-06-03
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد