پوسٹ – 2020-07-04

کیا ہر وقت گھر بیٹھے رہتے ہو، nباہر‌نکلو،‌لوگوں‌سے ملو، معاشرے کے طور طریقے سیکھ، دنیا کیسے نبھائی جاتی ہے، سمجھ آئے۔۔nnسو بیسکلی ، رشتے، تعلق ، طور‌طریقے، جعلی‌ملنساریاں سکھانے والے، اب جب ،گھر بیٹھے، ایک‌دوسرے کی شکلیں دیکھنے کے روادار نہیں ہیں،اور ، اس وجہ سے، نفسیاتی ہوئے پھر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہnnپہلے، سوساٹی، چو*یا تھی، کیوں کہ حالات نارمل‌تھے، اس لیے اس چو*یا معاشرے کا، چو*یاپا ، پکڑ میں، نہیں آیا تھا،
اور‌ یہ لوگ، ہر تنہائی پسند، جسے لوگوں کی منافق شکلیں دیکھنے، رشتے داروں، دوستوں وغیرہ کی اصلیت جاننے کے بعد، ان سےملنے کا‌کوئی‌خاص شوق‌پہلے بھی نہیں تھا، تو تصنع اور جعلی اخلاقیات سے گھٹ گھٹ کر، مرتی اس سوسائٹی کو، ایسے سافٹ ٹارگٹ‌مل‌جاتے تھے، تنقید کے لیے،
اب جب حالات بدلے ہیں، تو ، ایسے افراد، نارمل ہیں، اور سوسائٹی کا نفسیاتی پن چھلک‌چھلک‌کر باہر آرہا ہے
اس اصطبل معاشرے کی میٹھی ملنساری بکواس سنتے، nبہت سے بے ضرر،‌تنہائی‌پسند افراد‌نے،
پندرہ بیس سال تو‌جھیلا ہے، انہیں۔
اب چھ آٹھ‌مہینے یہ بھی‌جھیلیں، nلاک ڈاون کے نفسیاتی اثرات,n ,nمطلب یہ ہوا‌کہ‌یہ‌اصطبل‌معاشرہ کسی بھی، ایسی پرابلم‌سے نمٹنے کا‌ذہنی‌طور‌ پر‌اہل نہیں
یہ بس تبلیغ اور دوسروں کو‌، سوکھی نصیحت کرنے جوگے ہیںnnان شارٹ
پہلے یہ اصطبل‌خود ساختہ نارمل‌تھا
اور تنہائی‌پسند‌افراد، ان کے لیے، نفسیاتی
بدلتے حالات نے،
انہیں، چو*یا کردیا، اور باقیوں کو نارمل۔nnسبق ہے ان جوان ، اس‌نسل‌کے والدین کے لیے
جن کے بچے ابھی‌چھوٹے ہیں، اور یہ‌سب نہیں‌سمجھتے، nسبق حاصل کریں، اور پندرہ‌بیس سال بعد کا سوچیں، کہ آپ‌سوسائٹی میں،کو کس انداز میں، شیپ کرنا چاہتے ہیں
باز آئیں، میٹھے اخلاص اور تعلق داریوں سے اور بچوں کو‌یہ‌میٹھا بامروت زہر دینا بند کریں
تو امید ہے، کہ‌چند برس بعد ، یہ اصطبل‌جسے پاکستان کہتے ہیں، کچھ ٹھیک‌ہاتھوں میں ہوگا۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.