پوسٹ – 2020-07-08

تجزیاتی اورنتیجہ خیز سوچ ، بالترتیب درج ذیل جزئیات پر مشتمل‌ہوتی ہےnnحقائق
مشاہدات
تجرباتnnگمان/مفروضہ
عقیدہ/ایمان/بیلیف
نتیجہnnپہلے حقائق ہونگے، پھر ،مشاہدہ، ان‌کے ساتھ تجربہ، تب جا کر‌بنے گا یا بننا چاہیے ، گمان/مفروضہ، جس کے، بعد عقیدے یا بیلیف کی آمیزش سے نتیجے پر‌پہنچا جائے گاnnاور یہ بھوسی ٹکڑے والے، پاکستانی (سب نہیں، پر‌اکثرسے بھی‌زیادہ ،کمسن، امیچور، ناتجربہ کار)nnحقیقت، مشاہدہ، تجربہ، سب سکپ‌کر کےn’مجھے لگتا ہے’n’میں یہ‌سمجھا، میں یہ سمجھی
میرا خیال‌ہے nکا نعرہ لگا کر
براہ راسرت چوتھے نمبر (گمان) nمیں جا وڑتے ہیں، اور پھرn گمان/مفروضہ کرکے، اسے ایمان بنا‌کر، اس سے نتیجہ اخذ کر‌کے، خود کو‌ٹیلینٹڈ قوم‌کہلواتے ہیں وہ‌بھی ، اپنے ہی منہ سے۔۔۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.