بچپن سے سنتے آرہے ہوگے nماں باپ کے آگے زبان نہ چلانا
اونچی آواز میں بات نہ کرنا
بالکل ایسا ہی ہے ، nایسا ہی کرنا چاہئے
پر اس کا ہرگز ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ، اگر آپ کا موقف ، ٹھیک ہے ، ہر لحاظ سے حق پر ہے اور اماں اباں ، صرفn” لوگ کی کہیں گے” کے چکر میں ، آپ کو ،اسلامی ، جذباتی ، چکر میں ڈال کر ، ایمونشل اور ریلیجسلی ، ٹیک ڈاون کررہے ہیں تو
ہرگز ہرگز ، یہ مت سمجھیں کہ اپنا موقف ، نرمی سے ، ہاتھ جوڑ کر ، ان کے سامنے ، رکھ کر ، اس پر قائم رہنا ، بدتمیزی ہے ۔
اگر ایسا کوئی خیال آئے کہ ، اماں ابا کے آگے ، تمیز سے اپنی بات رکھ کر اس پر جم جانا ، وہ بات جو حق ہے ، نہ کہ ، ناجائز ، nاگر کوئی ایسا خیال آئے تو
حضرت ابراہیم کہ ، بت بنانے والے والد ، آزر کے بارے میں یاد کرلینا
اور اگر آپ باپ ہیں اور آپ کا بیٹا ، ناجائزی کررہا ہے ، تو اسے رسوا کرنے کے بجائے ، اپنی بات لاجکل، انداز میں ( نہ کہ ، میں تیرا باپ ہوں اس لیے ٹھیک ہوں ) nرکھ دیں nاور پھر بھی نہ مانیں تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں nایسا کرتے ہوئے
حضرت نوح کے بیٹے کا واقعہ ذہن میں لائیں
اگر آپ ، شوہر ہیں اور بیوی سرکش ہے ، تو سیم عمل دہرائیں اور ، اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں nحضرت لوط کی سرکش اور متعصب بیوی ذہن میں لائیں nجو ہائے میری قوم کہہ کر ، انہین کے ساتھ ماری گئی
اگر آپ بیوی ہیں تو ، اور شوہر ، آپ کی جائز باتوں میں ، میں شوہر ہوں میری مانوں والا حساب کتاب کرتا ہے تو nتو فرعون کی مومنہ بیوی حضرت آسیہ کا کردار یاد کریںnnاسلام ہمیں ، یہ نہیں سکھاتا کہ ، رشتے دار ہیں تو الٹے لیٹ جاو nیہ ، سبق دینے والی ، سوسائٹی ہے ، اسلام کے نام پر۔ nہاں تمیز سے اپنا موقف سامنے رکھو اور جم جاو
پوسٹ – 2020-07-13
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد