ہمیں ، موسقی حرام ہے پڑھایا گیا – جو کہ بالکل ٹھیک ہے،n لیکن کوئی بتا سکتا ہے کہ ، لحن داودی کے بارے میں کتنی ، معلومات دی گئیں ؟
کیا وجہ تھی کہ ، اسی ، معاشرے میں بننے والی ایک فلم میں ، لحن داودی کا تذکرہ کر کے موسیقی کو حلال قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی ،
کیوں ؟ nاس میں قصور وار ، کون ہے ؟
وہ جنہوں نے حرام تو پڑھا دیا، لحن داودی نہیں سمجھایا
یا وہ ، جنہوں نے اس گیپ سے فائدہ اٹھا کر، لحن داودی ( حضرت داود علیہ السلام کو جو لحن عطا ہوا تھا ) کے ذریعے اپنا اییجنڈا یعنی موسیقی حلال ہے پورا کرنے کی کوشش کی گئی ، nخیر ، nاس ایک چیز سے اندازہ کرلیں کہ ہم کتنی اسلامی سوسائٹی ہیں ؟ nویسے شکسپئر ، موسیقی کو نہیں ، لحن کو روح کی غذا کہتا ہوگا۔ اور اس لحاظ سے و وہ بالکل ٹھیک کہتا تھا ، کہ یہ کائنات ، فریکوئنسیز /انرجی کا مجموعہ ہی تو ہے ، nاور ، یہ ، روح کیا ہے ؟ انرجی ، لحن کیا ہے ؟ لہر کی ایک شکل ؟
تو کیسے ممکن ہے کہ ، لحن روح کو سرشار نہ کرتا ہو ؟nn( ڈیپنڈ کرتا ہے کہ کیسا ہے اس کے نوٹس ، اس کی فریکوئنسی ، انفرا ہیں ، الٹرا ہیں ، یا ایک مثبت سپیکٹرم میں ہیں
اس چیز کو سمجھنے کے لیے آپ کو ، میٹرک کلاس کاnSound and waves nوالا چیپٹر ، دوبارہ پڑھنا پڑے گا 🙂
پوسٹ – 2020-07-29
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد