اس پوسٹ کو ہرگز ، ہرگز ،مری شرافت کا پیمانہ نہ سمجھا جائے میں بہت ، سچی محبت کی تلاش میں نظریں نہیں جھکا پاتا پر
میری عادت نہیں نفسیاتیاں منگوں تبلیغ کرن دی ۔ خیر تو۔nnپاکستانی مذہبی ٹھرکیوں کے نام nجب تمھاری آنکھیں ننیچے ہوں گی ، تو عورت ، خود باپردہ ہوجائے گی nاس کو پردہ پردہ سنانے کے بجائے ، کم از کم خود کو ایسا بناو کہ وہ اگر بے پردہ بھی ہو تو تمھارے سامنے آنے سے ، گریز کرے یا آئے تو تمیز کر کے آئے nیہ مرد کی شان نہں کہ عورت کو بے پردگی پر لتاڑتا رہے nویسے بھی پاکستانی مولوی جو بے ہدایتے قسم کے ، انے وا تبلیغی ہیں ، ان کا بے پردگی پر ، کسی عورت کو بدتمیزی سے لتاڑنا ، اس پاکستانی مرد کی ، اپنے اندر کی کوئی کجی کا اظہار کرتا ہےکہ n”میرے ہاتھ نہیں آرہی تو کسی کے بھی ہاتھ نہیں آنے دوں گا”nاور ، کاندھا استعمال کروں گا، شریعت کا
یہ والا مائنڈ سیٹ ہے خصوصا جو فیس بک پر پٹے کے بغیر گھوم رہا ہے
کیوں کہ ، حقیقی مبلغ کبھی بھی کسی انفرادی برائی کو رسوا کر کے ، اسے ٹھییک کرنے کی کوشش نہیں کرسکتا
ایسے ہوتا ہی نہیں
اگر ایسا ہوتا تو ، انبیاء یہ کام کرتےnnفطرت سے قریب عورت ، یہ بات بہرحال جانتی ہے کہ اس کی خوبصورتی چھپنے میں ہے ، nاور یہ ناممکن ہے کہ تم کسی عورت کو تمیز سے ، کیفیت ڈیلور کرو ، محافظت والی اور پھر کہو کہ ذرا نک سک سے رہے nاور وہ انکار کردے ۔۔ کہ نہیں میں نہیں کرتی پردہ دوپٹہ nیہ جو ، آجاتے ہیں ناn”بے پردہ بے حیا جو برقعہ نہیں کرتی وہ بےحیا ، جو برقعہ کرتی وہ بھلے سے —- پتا نہیں کیا کیا کرتی ہو”nلیکن اس پر شک نہیں ہو سکتا
یہ والا رویہ ، کسی “مائل بہ پردہ ” عورت کو بھی ، برگشتہ کردیتا ہے ۔۔ nکیوں؟
کیوں کے مائنڈ سیٹ یہ ہےکہ ظاہری حلیہ شرعی ہو تو اندر بھی بھگوان ہی بیٹھا ہوگا
یا ستی ساوتری nخیر ، nعورتوں سے یہاں مراد ، فطرت سے قریب تر عورتیں ہیں nمیرا جسم میری مرضی والی جہنم کی ٹیکسیاں نہیں nانہیں یا ان کی سرخیل ۔
باقی مار بھی سڑ مت – کو کوئی عورت سمجھتا ہے تو اسے اپنی مردانگی چیک کروانے کی ضرورت ہے ۔
پوسٹ – 2020-08-08
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد