پوسٹ – 2020-08-30

سانحہ کربلا ، غم حسین ،کا پرچار ، بہرحال ،واقعے کو یاد رکھنے اور ، حق و باطل کو سمجھنے کا نام ہے ، پر ، اس واقعے ، اس تناظر ، اس مہینے سے قطع نظر ، اگر ، آج کے دور میں پاکستانی ، معاشرے کو دیکھا جائے تو ، ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے nیہ رونے دھونے کا بہانہ ڈھونڈتا معاشرہ ، حقیقی دکھ کا شکار ہے ، یا ، علم نفسیات کے وہ تھیوریاں ان پر فٹ بیٹھتی ہیں ، جن کے مطابق
چونکہ ، ہر وقت ہائے ہائے کرنا ، منفی کام ہے nکمپلین کرنا ، nبلیم گیم کرنا ، nروتے دھوتے رہنا
اپنی حساسیت کھول کھول کر دکھانا ، nیہ سب کسی بھی انفرادی دماغ کے لیے ، آسان چوائس ہے ، اور چونکہ ، انسانی دماغ،
بائے ڈیفالٹ ، اس بات پر پروگرامڈ ہے کہ ، اگر آپ کے سامنے دو فیصلے ہوں nجن میں ایک مشکل ہو ، لیکن ثمرات اچھے ہوں nایک آسان ہو ، جس کے ثمرات ، نہ اچھے ہوں نہ برے ، یعنی کچھ ہوں ہی نہیں ۔
تو انسانی دماغ ، آسان فیصلے کی طرف دوڑتا ہے nاب بتائے ، آسان چوائس کیا ہے ، روتے اور دھوتے رہنا nیا پھر ، کمپلین کیے بغیر ، باعمل زندگی گزارنا n؟

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.