پوسٹ – 2020-09-13

زودرنجی سے معمور معاشروں میں
ہمیشہ “کیسے” پر غور کیا جاتا ہےn”کیا اور کیوں” پر نہیں
مثلا ، اگر آپ کسی بارے کوئی کمپلین کررہے ہیں وہ کمپلین جائز بھی ہے ، تو شرکائے محفل ، آپ کے انداز بیان پر جائیں گے ، نہ کہ ، آپ کی کیفیات/ یا آپ کے مین مدعے پر ، جن معاشروں میں منافقت ، جڑ پکڑ چکی ہو ، وہ لہجوں اور انداز کی نک سک درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ، کیوں کہ ، ان کی ، نیت ہوتی ہی نہیں کہ ، مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر ، قصور وار سے سوال جواب کر کے ، مسئلے کا حل نکالا جائے اس لیے ایسے معاشروں آپ کو یہ سننے کو ملتا ہےn”بات تو ٹھِیک ہے ، میں سمجھتا ہون آپ کے جذبات پر آپ کا انداز ایسا ہے ویسا،”nخواہ جس کے بارے میں ، بات ہو رہی ہو ، وہ عملی طور پر ، کتنا ہی نقصان کیوں نہ کر بیٹھا ہو پر ، اس کے بارے میں بات تمیز سے کرو ،
یا پھر ایسے جملے
بھئی ، اگر وہ ایسا ہے تو تم نے ، اپنی زبان الفاظ کیوں خراب کرنے ، بات تو تمیز سے بتاو
اور کچھ نہیں ملے گا تو شریعت کا پوٹلا کھول لیں گے اور شریعت بھی سیلیکٹو ، مطلب اسی وقت یاد آئے گی جب ، ایمونشنلی ، یا مذہبی بلیک میلنگ کرنی ہو
غور کیجئے گا ، یہاں اخلاقیات/جذباتی بلیک میلنگ / تبلیغ پر ، زور ہوگا ، نہ کہ ، مسئلے اور مسئلے کا سبب بننے والے شخص پر
ایسا کیوں ہوتا ؟
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ، ایسے معاشرے ، مسئلے کے حل کی نہ نیت رکھتے ہیں نہ ہی ، اہلیت۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.