آف کورس ریپ ناقابل معافی جرم ہے، ریے پسٹ، کے ساتھ ، جتنی بری ہو، کم ہے۔۔۔ nانفیکٹ، پھانسی، رے پسٹ کے لیے نرم، سزا ہے، اس کے ساتھ کچھ ایسا، پر تشدد ہونا چاہئے، زندہ بھی رہے، پر، موت کی دعائیں مانگیں nnپانچ سوال ہیں۔ ان پر غور کریں، خود سوچیں۔nnپہلا سوالnn کیا آپ کو نہیں لگتا کہ، ریپ پہلے بھی ہو رہے تھے ؟nn، پر ریپ پہلے رپورٹ نہیں ہو رہے تھے،یہ پلک جھپکتے میں، رپورٹنگ بہت بڑھ گئی، اچھا، سوشل میڈیا کوئی آج سےایکٹو نہیں، یہ تو دن بدن ایکٹو ہے، پر غور کریں، تو ریپ کی خبریں، کتنی سرعت سے آرہی ہیں۔۔۔ پر کوئی خاص فالو اپ نہی ۔۔nnدوسرا سوالnnاتنی ایکٹونس، ایکدم کیا ظاہر کر رہی ہے،میڈیا اور ریاست کو عوام کی فکر ہوگئی ہے ؟nnتیسرا سوال
ریپ پوری دنیا میں ہوتے ہیں جانور کہاں نہیں پائے جاتے۔۔۔
پر پاکستانی قومn(خصوصا ایک خاص طرح کے، مائینڈ سیٹ والی عورتوں کا) nکے زیادہ مچلنے کیn (مچلنا بےعملی والا مچلنا، نہ کہ عملیت پسندی کا مچلنا)nوجہ ریپ کا بڑھ جانا یے، یا یہ لوگ اپنی طرف سے کسی۔ آئڈیل معاشرے میں جی رہے تھے، جو انہیں پاکستان میں انواع اقسام ریپ ہونے کی امید نہیں تھی۔ ؟nnچوتھا سوال
کیا یہ ریپ بڑھ جانے کی فکر ہے ، ان سیکیورٹی ہے یا پھرn’ہم تو اسلام کا قلعہ تھے’ والا بلبلہ پھٹنے کی تکلیف ؟nnپانچواں سوال
اگر ریپ والی فکر ہے تو ، چیخنے چلانے کے بجایے، کتنے افراد ہیں(خصوصا رنجی رونے کرنے والی گھر بیٹھی محفوظ عورتیں)nجو منظم ہو کر، ریپ وکٹم کا فالو اپ کرتے ہیں، یا کوئی ، پر تاثیر کام کرتے ہیں جس سے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکےnnنہ کہ سارا دن، نوکری کچن گھر کی فرسٹریشن کو فیس بک پر، ریپ وکٹم کی ہمدردی، بنا کر نکالنے کے۔۔۔؟
پوسٹ – 2020-09-30
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد