پوسٹ – 2020-10-13

جذباتیت/حساسیت /ردعمل کا طاعون – چھٹی قسط nnایسا کیوں ہوتا ہے کہ ، کوئی شخص خود کے لیے اور دوسروں کے لیے ، حساسیت کا استعمال کرتے ہوئے ، مہلک مرض جیسا ہوجاتا ہے nnحساسیت/جذباتیت کے ذہنی عارضے کا شکار یعنی طاعون کا مریض , اندر ہی اندر ، اپنی بے چینی ، فرسٹریشن اور دردناک قسم کی منفی کیفیات کا شکار ہوتا ہے ، جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ، یہ شخص اپنے اندر کی زندگی کو قتل کردیتا ہے ، پھر اس کا وجود ایک ، محدود ، لایعنی اور ڈی کمپوز ہوتی لاش جیسا ہوجاتا ہے nایسا اکثر سے بھی زیادہ اس لیے ہوتا ہے ، جب کوئی بھی شخص، تعلقات/رشتوں سے ناخوش ہونے کے باوجود ، ان کے ساتھ موجود رہے ، یا پھر ، ماورائی قسم کے شاعرانہ اور افسانوی تعلق کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہو ، جن کا عملی دنیا سے کوئی لینا دینا نہ ہو ، اکثر شاعر ادیب ٹائپ کے لوگ اسی لیے مرنے والے ہو رہے ہوتے ہیں کیوں کہ ، فینٹسی میں لکھ لکھ کر ، اسے حقیقت سمجھ لینا ، جب کہ ، عمل دو کوڑی کا نہ ہو ، بہرحال ، لاشعور کو تباہ کرنے کی طرف مائل کیے رکھتا ، شخصی بہتری میں زیرو کانٹری بیوشن اور پھر ، زندگی کا حقیقی چہرہ جب سامنے آتا ہے تو یہ نشے وشے میں پڑ کر ، خود کو تخلیقی ثابت کررہے ہوتے ہیں ۔۔ حتی کے ، اگر کوئی کام ، سچی خوشی کے بغیر بھی کرتے رہیں اورسمجھیں کہ میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں ، تب بھی اس طاعون کا شکار ہونا ، بعیدازقیاس نہین

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.