پوسٹ – 2020-12-13

اس کے بعد میں یہ خبر پڑھی کہ ،
ارطغرل کہہ رہا تھا کہ ، “اچھی سٹوری ملی تو کام کروں گا پاکستان میں”nاور میں یہ سوچ رہا ہوں ، کہ اب اگر ترکی کے اداکار ، یہاں دلچسپی دکھا رہے ہیں تو، کہانی کہاں سے آئے گی — کیوں کہ ،یہ تو حال ہے ، سلطانہ صدیقی جیسی آنٹیوں کا۔
پوائنٹ یہ ہے کہ ،
ایسے افراد کا مسئلہ سٹوری یا آئیڈیا نہیں ، ان سے یہ پوچھا جائے کہ ، جب آپ تک ، کوئی الگ لیول کی سٹوری پہنچتی ہے تو ، آپ لوگ رسک لینے پر تیار ہوتے ہو یا یہ کہتے ہو کہn”ہماری پبلک نہں دیکھے گی”nنیٹ فلکس کے دور میں ، ایسی باتیں ، کرنا کہ ، کیا دکھائیں
ویسے ، یہ باتیں ، حسینہ معین صاحبہ جیسی خواتین نہیں کریں گی
بجیا چلیں گئیں ورنہ اس بات پر ، سلطانہ آنٹی کے تیزاب جیسے منہ پر مزید تیزاب ڈال دیتیں ۔
بہت سے افراد ، کہہ چکے ، ہم ان موضوعات پر نہیں لکھ سکتے ، اس لیے نہیں کررہے کام یعنی nسلطانہ آنٹی جیسوں کی وجہ سے ، پراپر لکھنے والے ، بھی ٹھنڈے بیٹھ گئے — nویسے ، آئیڈیا کیسا ہے ، ایک عورت ، دوسری عورتوں پر تیزاب پھینک کر انہیں بدصورت بنائے
اس پر سیزن کیوں نہیں بن سکتا 📷nمرد تیزاب پھینکنے والے تو بہت سنے ہیں۔
بہرھال ۔
شٹ مین — ، خیر عورت ہے ، اس کے لیے ، پاکستان میں بس یہی موضوعات ہیں –nقابل ترس – بیچاریاں, ان کا اپنا منہ ، طلاق / بیوگی جیسا ہوا وا ہےnnباقی ، ایک اورہے ، سوری “ہیں” مایا علی خان ، وہ کہتی ہیں ، خواتین کا اب کمزور کے بجائے طاقتور دکھانا چاہئے nnاچھا جب ، یہی بات مرد کہے کہ “رنجی رونے اور ڈرامے بازیاں ہیں ، حقیقت میں ، اتنا کچھ نہیں ہوتا، خوام خواہ کی مظلومیت نہ دکھائیں سکرین پر ، تو ، مرد بھیڑیا ہوگیا”nnاب سمجھ آرہا ہے نا ، کہ ، خود کو مظلوم دکھانے کے نتیجے میں کیا ہوا ہے nلول nاب طاقتور کرو گے خواتین کو ، کیسے کرو گے ، فیمنسٹ دکھا کر ؟
یا تمیز کے واقعتا مرد کردار کے ساتھ
؟
اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا ، مرد کو قوام کرنا پڑے گا ؟
اور وہ تم سے ہونا نہیں ، کیوں کہ ، تمھارے ساتھ کے لکھے پڑھے گلابی ہیں ۔
بہرحال ، پرسنلی مجھے تو مزا آرہا ہے یہ ، سب پڑھ کر کے ، ان کے پاس موضوعات ہی نہیں رہے ۔۔
اور یہ اور صرف ان کا فالٹ ہے nاچھا ، اگر ارطغرل ، وغیرہ کو یہاں سٹوری نہ ملے کام نہ ملے
پر آئی ایم شیور ، مل جائے گا کوئی پروائیٹ پروڈکشن کا سرپھرا – کیوں کہ ، مثبت انگیزی کی مدد قدرت کرتی ہے ۔ nnنوٹ: کسی میٹھے کو ، اگر سارا موضوع چھوڑ کر ، اس کی شکل پر، دیا گیا تبصرہ
تنکا دے ، تو ، یقین کرو ، وہ میٹھا بھی اس معاشرے کا مسئلہ ہے ، باقی عورتوں کا کیا ہے ، ان کا کام ہے رونا دھونا – سب نہیں پر اکثر پاکستانی عورتیں ۔۔
اور ہاں ، مایا علی صاحبہ کی خیر ہے ، وہ کچھ بھی بول لیں ، ان کا حق ہے ، مجھ سے ، شکوہ ، سوری ہم سے شکوہ نہیں کریں گی تو کس سے کریں گی —

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.