بہت سے مولویوں کو یہ کہتے سنا ہوگا ، قرآن علما کی رہنمائی کے بغیر نہیں پڑھنا چاہئے
اور جب تفہیم القرآن لکھی گئی، تو مولویوں کی فرقہ واریت والی دکانوں پہ لات پڑی۔۔۔ nکہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ۔ قرآنی فہم کو عام انسان کی سمجھ کے مطابق لکھ دیا جائے ۔
وہ بھی بظاہر ، نان مولوی کے قلم سے nکیوں کہ انتہائی آسان فہم انداز میں بیان کیا گیا
آپ نہ پڑھیں، تفہیم القرآنn کہ بقول مذہبی طبقے کے وہ بغیر علما کی رہنمائی کے، پڑھنے کے برابر ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی مولوی کو یہ کہتے نہیں سنا
کہ دیکھو قرآن میں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جس کی سمجھ کے کیے، علم کا ایک خاص درجے پہ ہونا ضروری ہے، لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں، جو آپ خود بھی سمجھ سکتے ہیں
۔۔۔ نہیں بلکہ قرآن پڑھنے (تلاوت نہیں ترجمہ(nسے ہی سائڈ لائن کردیا گیا۔۔
کیوں ؟
بھئی قرآن خزانہ ہے، عام ہاتھوں میں آیا تو دکان بند ہوگی۔۔
لوگ مذہب کے بجائے، دین کی ڈیمانڈ کریں گے۔۔
اچھا تفہیم القرآن ، نہ پڑھیں۔۔ بس اس کا دیباچہ پڑھ لیں
آپ کو سمجھ آجائے گی پاکستانی مولوی (سب نہیں پر اکثر) کی مکاری۔۔۔ کہ اس نے آپ کو حقیقی دین سے دور کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔۔۔ قرآن سے دور کرکے۔۔۔
یاد رکھیے، قرآن سے دوری کا مطلب، تلاوت نہیں۔۔۔ بلکہ یہاں، قرآن کو پڑھ کر۔۔ سمجھ کر عام زندگی میں۔ تفکرو تدبرو کی بات ہورہی ہے۔۔
پوسٹ – 2021-12-25
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد