آپ کو واقعی لگتا ہے ، چالیس سال کی عمر تک ، غیر فطری زندگی یعنی بے نکاح زندگی گزارنے والا ۔ ذمے داریوں سے مبرا، ، جب کسی بڑے عہدے پر براجمان ہو گا تو اس کے اندر nقوت فیصلہ nتہذیب
خالص پن nجیسی چیزیں باقی رہی ہوں گی ؟nnاس سوال کا جواب چاہئے ، ؟
کسی تیرہ چودہ سال کے لونڈے سے گفتگو کیجئے جو ابھی بالغ ہورہا ہوگا nاس کی خصلت میں impulsiveness یعنی اضطرار، سرکشی ، ٹامک ٹوئیاں مارنے کی عادت اور، بڑ بولیاں یعنی مزاج کا ٹھہراو نہ ہونا، اگر مگر چونکہ چنانچہ ، ڈسکشن کا شوق مباحثے کی عادت، بے علم بےثمر اور بے لاگ تبصرے نوٹ کیجئے nاور پھر ، اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، کسی ایسے شخص کی گفتگو نوٹ کیجئے جو عیاشی یا غیر فطری کنوارے لائف سٹائل میں چالس کراس کرگیا ہو ، اور مقتدر کرسیوں پر موجود ہوnnآپ کو دونوں طبقوں میں مذکورہ خصائل مشترک ملیں گے ، nاچھا تیرہ چودہ سال والا لونڈا پھر بہتر ہے ، nپتہ ہے کیوں ؟
کیوں کہ ، اس کا ایسا کرنا پھر بھی فطری ہے کہ کھلنڈرا پن ہے ، ابھی وقت ہے سیکھے گا ، تجربہ لے گا وغیرہ وغیرہ nnپھر ایسے کسی شخص کے ووٹر سپورٹرز ، بھی اسی قبیل کے ہیں nخود جانچئیے کتنے “ذہنی طور پر میچور” افراد نے ، ایسے کسی بندے کو ووٹ کیا ہوا، اور وہ طبقہ شرمندہ نہ ہوnnکہ یار غلطی کربیٹھے nnاچھا اک اور چیز، عورتوں میں ، یہ سب خصائل بدرجہ اتم ہوتے ہیں ، اور ان پر جچتے بھی ہیں کہ ، مخلوق ہی impulsive ہے ، فیبرک کا حصہ ہے nبہرحال — ایویں نہیں ، نکاح پر سبقت کا کہا گیا —
پوسٹ – 2022-01-09
ما هو رد فعلك؟
حب0
حزين0
سعيدة0
نعسان0
غاضب0
ميت0
غمزة0

اترك رد