پوسٹ – 2022-02-13

گوشت خور nnپہلی قسط nnوہ گلی سے نکلا تو منظر میں میرون رنگ گھلا ہوا محسوس ہوا۔۔ پیچھے پلٹا تو آنکھیں اس رنگ سے چندھیا گئیں ۔۔ اقبال ، گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس گلی میں رہ رہا تھا۔۔لیکن آج تک اس نے گلی کو میرون کلر سے اتنا بھرا ہوا نہیں پایا تھا ۔۔خاص طور پر صبح نو بجے تو ہرگز نہیں ۔۔ صبح تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے گلی جماہیا ں لے کر سانسیں کہر کی صورت باہر پھینک رہی ہے ۔۔ ویسے بھی لے دے کر گلی میں یا تو کباڑئیے گھومتے تھے یا کتے ۔۔ کتے تو وفادار ہوتے ہیں اور کباڑیئے ۔ بیزار۔۔ یہاں مقصد ان دونوں کا موازنہ نہیں ۔۔ لیکن کیا کریں کتے بھی تو انسان ہوتے ہیں ۔۔
اور کباڑئیے ۔۔ ؟ ہاں تو اقبال ۔۔ نے ایک لمحے کو پیچھے گھوم کر دیکھا۔۔ تو میرون ساڑھی میں سے جھانکتا حسن اس کو گھائل کرگیا۔۔ وہ عورت تھی یا لڑکی بیس پچیس گز کی دوری سے واضح نہیں تھا۔۔ ذاتی طور پر اس کو آنٹیوں میں دلچسپی تھی ۔۔ لیکن شہوت والی دلچسپی نہیں د بلکہ ایک دلچسپ سی دلچسپی ۔۔ ونڈو شاپنگ۔۔۔ وہ بھی شاید آنٹی ہی تھی ۔۔ میرون کلر ساڑھی کی صورت اس کے سراپا پر جیسے پینٹ کیا گیا ہو۔۔ اقبال کو عورت سے زیادہ اس وقت میرون کلر کی ساڑھی نے الجھایا تھا ۔ اقبال ۔۔ حیران تھا، آج صبح نو بجے کام پر جاتے ہوئے ۔۔ یہ گلی میں ۔۔ لاٹری کیسے نکل آئی ۔۔ اس نے غور نہیں کیا۔۔ وہ غور کرنے کے موڈ میں تھا بھی نہیں ۔ کیوں کرتا ؟ آخر کو وہ “شریفوں کا محلہ ” تھا۔۔شریفوں کے ہاں غور گھور پاپ مانا جاتا تھا اور وہ ٹہرا چھڑا چھانٹ ۔۔ وہ کیسے کسی پر غور کر سکتا ہے ۔ مسئلہ یہ بھی نہیں تھا بلکہ مسئلہ تو اس وقت ہوا جب اضطراری طور پر اس کی نظر ساڑھی میں لپٹے وجود پر پڑی ۔۔ وہ جو کوئی بھی تھی عمر کی اسی ڈالی پر لٹکی ہوئی تھی ۔ جس کا پھل اقبال کو بہت مرغوب تھا ، یہ عمر کا اندازہ اس نے چہر ہ دیکھ کر نہیں کیا تھا چہر ہ تو نظر ہی نہیں آیا تھا۔۔ آتا بھی کیسے ۔۔؟ بیس پچیس گز کی دوری خلا میرون رنگ سے بھرا ہوا تھا” تو پھر میں اس کے آنٹی ہونے کا اندازہ کیسے لگا سکتا ہوں ” اس نے سوچا ۔۔n” ارے وہ اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے ۔۔ اسی کے ہونگے ۔۔ “n”تو کیا ضروری ہے کہ وہ اسی عورت یا آنٹی کے بچے ہوں ۔۔ نہ بھی ہوں ۔۔ بس وہ تب بھی آنٹی تھی ۔۔ ۔۔ ارے کیوں ؟”n” یار اس لیے کہ ۔۔ میرون کلر کی ساڑھی والی خواتین صبح کے نو بجے ۔۔ پلو ڈھلکائے نہیں نکلا کرتیں ۔۔ خصوصا جب وہ ہ شادی شدہ بھی نہ ہوں ۔۔ کسی جگہ اس نے پڑھا تھا۔۔ کہ شادی کے بعد مرد حیادار ۔۔ ہوجاتا ہے ۔۔ا ور عورت ؟ عورت ۔۔ میرون کلر کی آنٹی بن جاتی ہے ۔ تو کیا میرون کلر بے حیائی کی نشانی ہے ۔؟نہیں نہیں ۔۔ مرد حیادار نہیں بلکہ شرمیلا ہوجا تا ہے ۔یا شاید شرم اور حیا کے بیچ کی جو لکیر ہوتی ہے نا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ۔۔ کہ میرون کلر کی ہوتی ہوگی ۔”n ایسی ہی مہمل مگر مزیدار سی بکواس اقبال کے اندر چل رہی تھی ۔۔ اس کے الفاظ ایک دوسرے کے سامنے منطق سونتے کھڑے تھے ۔۔ و ہ کسی ایک سائڈ کے جیتنے کا انتظار کر رہا تھا جو جیت جاتا اقبال اسی کا ہو جاتا۔۔ سب الفاظ ، ساری منطق تھی تو اس کی اپنے ہی دل ودماغ کی جنگ ۔۔ تو وہ سوچتا جا رہا۔۔ تھا۔۔ الفاظ لڑتے جا رہے تھے ۔
ا یک سائڈ نڈھال ہو رہی تھی ۔۔ ایک سائڈ ۔۔ وبال بن رہی تھِی ۔۔ یہ جنگ بھِی عجیب تھِی فاتح فاتح ہو کر بھی تباہ حال تو ہو ہی جاتا ہے ۔۔
ویران الفاظ پر حکمرانی کر کے ۔۔ اقبال کو کیا ملنا تھا۔۔ وہ چلا جارہا ۔۔ وہ پیچھے آرہی تھی ۔۔ اقبال نے پہلے تو سوچا کے دو تین بار پلٹ کر دیکھے کہ ساڑھی کے ڈھلکے پلو سے جو جھانک رہا ہے وہ بلاوز ہے یا پرس یا۔۔ یا صرف اس کا وہم۔ کیوں کہ کبھی کبھی مرد کا وہم گوشت بن جاتا ہے ۔۔ا ور کبھِی گوشت وہم بن جاتا ہے ۔۔ یہ ویسا ہی ہے ۔ جیسے ایک شیر پیٹ بھر کر کے ۔۔ شکار کرے ۔۔ اور پھر سستاتے ہوئے اگر اس کے سامنے سے گوشت ہرن کی ڈار کی صورت گزر رہا ہو۔۔ تب وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے ۔۔ گویا۔۔ ہرن کا گوشت شیر کو بکری بنا دیتا ہے ۔۔ اور جب شیر بھوکا ہو۔۔ تب بھی وہ گھاس نہیں کھاتا ۔ فاقے کرلے گا ۔۔ بھوکا مرجائے گا لیکن کھائے گا گوشت ہی ۔۔۔۔ اسی لیے آج تک شیروںمیں کوئِ ہم جنس پرست نہیں ہوا۔ اقبال بھی ایسا ہی شیر تھا۔۔ وہ سخت بھوک کے عالم میں سیر ہو چکا تھا۔۔ اسسی لیے کوئی خاص پروا نہیں تھِی کہ وہ بلاوز ہے ۔ وہم ہے یاگوشت ہے ۔۔ اس نے گلی سے مڑنے میں عافیت سمجھی۔۔ موڑ آتے رہنے چاہئیں ۔۔ موڑ نہیں آتاتو اقبال پلٹ جاتا۔ اور اگر وہ پلٹ جاتا۔۔ تو میرون کلر آسیب بن جاتا۔۔ آسیب سے بچ کے رہنا چاہئے ۔۔یہ تو وہ آسیب ہے جس کا حل بھی اسی آسیب کو اپنانا ہے ۔۔ اب ایسے آسیب سے بچیں نہ تو کیا کریں ۔۔ اقبال یہی سوچتے سوچتے ۔۔ بس اسٹاپ تک پہنچ گیا۔ آج پھر سے اس کی نظریں لی مارکیٹ کی طرف جانے والی بس کو تلاش رہی تھیں ۔ ابھی وہ بس کو ہاتھ دینے ہی لگا تھا کہ میرون ساڑھی اس کی نظروں سے ایکسیڈنٹ کر بیٹھی ۔” یہ میرا پیچھا کر رہی ہے ۔۔یا ہم دونوں ایک دوسرےکا ؟” اقبال الجھ گیا۔۔ وہ ا س کے ساتھ ہی لیڈیز کمپارٹنمنٹ میں سوار ہوگئی ، بس تو ایک ہی ہے ۔ کیا منزل بھی ایک ہے ؟ ایک بس میں سوار ہو کر وہ بے بس ہوگیا تھا۔۔ اب چلتی بس سے چھلانگ لگاتا تو ساڑھی کے نیچے آکر ماراجاتا غنیمت رہی کہ خواتین کے ہجوم نے میرون کلر کو پھیکا کردیا تھا۔۔ گوشت ہی گوشت پر حاوی آگیا تھا ۔۔ وہ چہرے پہ لگی گرد کو جوتے سے کیسے صاف کرتا۔۔”ہاں بابو کرایہ ہاتھ میں رکھنا ۔۔ “کنڈیکٹر نے بدتمیزی سے اس کے کندھے کو تھپکا۔۔nn -جارہی ہے

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.