پوسٹ – 2022-02-17

منٹو کے بدنام ہونے کی وجہ، اس کی فحش نگاری سے زیادہ، اس کی سادہ بیانی تھی۔n’آسان الفاظ میں ،’کھول دو’ کھول دو ،کہہ کر ‘ٹھنڈے گوشت’ کی نمائش کرتا، اور اس کی ‘ بو’ سے معاشرے کی ‘موتری’ ہوجاتی ، یہاں تک کہ ، سب کی سفید پوشی، ‘کالی شلوار’ میں بدلنے لگتی۔
گویا ،بدنامی اس کے عنوانات میں نہیں، سادہ اسلوب میں پنپ رہی تھی، nورنہ، یہی کام مشکل اردو میں کرتا، نہ کسی کو سمجھ آتی ، نہ بدنام ہوتا۔
آپ کسی سے پوچھئیے، ان چند افسانوں کے علاوہ کچھ پڑھا ہے ؟n’تو وہ آپ کو ایسے دیکھے گا جیسے آپ ‘گنجے فرشتے’nہوں
اور آپ کا دل کرے گا کہ اسے ‘آخری سلیوٹ nکھینچ کے دے ماریں
اور
چلا چلا کر nاوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،
پکارتے ، اپنے سر میں
خالی ڈبے خالی بوتلیں’ مارتے’nتانگے والے کےبھائی’ کے ساتھ’n ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف بھاگ کھڑے ہوں۔۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.