پوسٹ – 2019-12-11

اگر آپ کسی سے خلوص, رغبت ,اور عقیدت جیسے ڈھکوسلے بازی پر مبنی دعوے کرتے ہیںnnتو یاد رکھئیے
یہ دعوے اس وقت تک, ڈھکوسلہ تصور کیے جاتے رہتے ہیں.n جب تک آپ ، ان لوگوں کی طرف سے لگائی گئی ،
مختلف چھوٹی بڑی قدغنوں کو، چاہے وہ انتہائی معمولی ہی کیوں نہ ہوں جذب کر کے, انہیں مان نہ لیں ۔nnیہ معاملہ اطاعت سے زیادہ، منطق میں چلا جاتا ہے
کیسے ؟
وہ ایسے کہ
،ایک تو، تم کہتے ہو، کہ تم، فلاں کو پسند کرتے ہو
لیکن تم ،اس کے بارہا منع کرنے کے باوجود، بار بار وہی کام کرتے ہو اور ،اس کو لائٹ بھی لیتے ہو یعنی اپنی حرکت کو،۔nn اور تو اور اس سے بھی اگلا لیول یہ کہ ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کرتے ہوnnکہ میں نے تو ایسا ہی رہنا ہے۔nnتو وہ شخص تمہارے اس رویے کو عمل/ حقیقت سمجھے گا، نہ کہ تمہارے رغبت اور قربت بھرے دعووں کوnnاس کا منطقی مظہر کیا ہے ؟nnاس کے منطقی مظاہر میں سے سب سے پہلا سوال جو دماغ کی چولوں کو ہلا دیتا ہےnnوہ یہ ہوتا ہے
انسان کے ذہن میں ایک مکالمہ شروع ہوجاتا ہے۔
یار یہ دعووں کی بہتات بھی ہے
اور بات ماننے سے انکار،nn اس بات پہ اصرار nnاور تو اور اس پوری بات کو مذا ق کی سینس میں لے کر nnمستقل کیے چلے جاناnnیہ عمل منطق اور جذبات کا ایسا قلع قمع کرتا ہےnnکہ ایسی حرکات کرنے والا شخص nتعلقات کی پتلی سی تار پر چل رہا ہوتا ہے،n غلط فہمی کی ہوا آئی نہیں، اور یہ زمین بوس ہوا نہیںnnاور پھر ایسے اشخاص سے، نفرت نہیں ہوتی۔n بلکہ ایسے افراد لاموجود ہو جاتے ہیں
اب نفرت کے لیے سامنے والے،n کی موجودگی کو بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا ہے نا ؟nnلیکن جب آپ اپنی ہی حرکات کی وجہ سےnnشخص سے شے nn بن جاؤ آؤ تو سوچو پھر آپ کو،n کتنا برداشت کیا گیا ہے
کتنے چانس دیے گئے ہیںnnاچھا اگر آپ گلابی ہوn تو بالکل مت سوچنا ,کیونکہ آپ کے اندر وہ سوفٹ ویئر یا تو کرپٹ ہو چکا ہے یا انسٹالڈ نہیں۔

💬
Zohaib's Digital Twin 🤖
Salam! میں زوہیب کا AI ورژن ہوں۔ کوئی بات کرنی ہے تو بتاؤ، مگر سیدھی بات کرنا، no drama please.