لال بیگ – صفحہ (1)nnعفان اور عینی کی شادی کافی چٹ پٹ ہوئی تھی۔۔ ، گر ل فرینڈ ، بوائے فرینڈ ۔ بننے کا وقت ہی نہیں ملا ، تو دونوں نے سوچا کے چلو منگنی کر لیتے ہیں ۔۔ ویسے بھی دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جہاں لڑکوں کا ماتھا بڑا ہونے لگتا ہے ۔۔ اور لڑکیوں کے میک اپ میں کچھ تہیں مزید بڑھ جاتی ہیں ۔۔ نہ تو عینی کسی کالج کی الہڑ طالبہ تھی ۔۔ اور نہ عفان ان لڑکوں میں سے تھا جو یوم آزادی پر موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر “ویلیاں”مارتے ہیں ۔۔ دونوں ہی نوکری پیشہ تھے ۔۔ نو سے پانچ کے دوران کچھ ایس ایم ایس اور زیادہ سے زیادہ معنی خیز “ہونٹوں” کے آئکون ایک دوسرے کو بنا کر واٹس ایپ پر بھیج دیا کرتے تھے ۔۔ جیسے منگنی کو سینت سینت کر خرچ رہے ہوں ۔۔ عینی نے بی اے آنرز)کمپیوٹر سائنس (میں گولڈ میڈل لیا تھا۔۔ اور عفان نے زولوجی میں ماسٹر یافتہ تھا ، لیکن جو کچھ نہیں کرتا وہ پھر کمپیوٹر کا ڈپلوما اور انگلش کے کچھ کورس کر کے ماسٹرز کو ڈسٹ بن میں ڈال دیتا ہے ۔۔ عینی تو ُپھر تھوڑی بہت کمپیوٹر پروفیشنل کہی جا سکتی تھی ۔۔ ا س لیے اپنے گولڈ میڈل کو ڈیٹا اینٹری کی کرسی کے نیچے دبا کر خوش تھی کہ چلو “آئی ٹی ” میں تو ہوں ۔۔ لیکن عفان کی یہ نوکری تو”مرتا کیا نہ کرتا ” کے مترادف تھی ۔ تو بس وہ بھی “آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر” بن بیٹھا تھا۔۔ جس کا کام بس ریسرچ کرنا تھا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ صرف اس پر غور و خوض کرتا رہتا تھا کہ ؟ کون سا نیا سافٹ وئیر کمپنی کو کم پیسوں میں زیادہ نوکر فائر کرنے کی سہولت دے گا ۔۔ کس کی ونڈو کرپٹ ہوگئی ۔ کون سا اینٹی وائرس مفت ہے ۔ کس کا لائنس لائف ٹائم ہے ۔۔ حشرات الارض کے علم (Entomology) پر پی ایچ ڈی کا خواب اب کمپیوٹر وائرس مارتا پھر رہا تھا ۔۔ خیر اب جو ہوا سو ہوا ۔۔ گزرتے ماہ سال نے چار سال پہلے حاصل کئے گئے علم پر گرد ڈال دی تھی ۔۔ وہ یا تو سمجھوتہ کرگیا تھا یا پھر ہتھیار ڈال گیا۔۔ جو بھی تھا بس اب وہ خوش تھا۔۔ نہیں خوش نہیں بلکہ “نارمل” سا تھا۔دوسری طرف عینی کے گولڈ میڈل کو بھی زنگ لگ گیا تھا وقت اور کرخت کارپوریٹ لائف نے اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ڈال دیئے تھے ۔۔ اور عفان کی آنکھوں میں چربی کی تہہ کے جیسے گاو تکئے بن گئے تھے ۔ سوچ سوچ کر عینی کے سر کا ایک بال سفید ہو چلا تھا ۔۔ لیکن سفید گھوڑے پر سوار اس کا شہزادہ اس سے چار کیبن پیچھے کی بورڈ کا شہسوار بنا بیٹھا تھا۔۔ بس یہی سارے معاملات تھے ۔۔ جس کو دیکھتے ہوئے انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔۔ اور بوائے فرینڈ ، گرل فرینڈ کے معاشرتی طور پر قبول صورت رشتے کو منگیتر ی کی سطح تک پہنچا دیا تھا۔۔اب آپ سے کیا پردہ ۔۔ ایک چونتیس کا تھا اوردوسری اکتیس ۔۔ اس لیے یہاں لوو اسٹوری کا تو سوال نہیں پیدا ہوتا ، حقیقی دنیا کے باسی اس لہو و لعب میں نہیں پڑا کرتے ۔۔ بس اب منگنی کے دوران کے مسائل کو سلجھا کر آگے بڑھنے والا کام تھا۔n -جاری ہے

اترك رد