سچی بات تو یہ ہے کہ ماروی سرمد کے نام کا پہلا حصہ ہی “مار” ہے اس کا نام ماروی سرمد کی جگہ “مار بھی سوچ مت” ہونا چاہئے ۔۔ مولوی نے سہی کیا۔۔ بلکہ صرف بول کر غلط کیا۔ ماروی سرمد ٹائپ عورتوں کو ویسے بھِی ایسی ہی سختی پسند ہوتی ہے ۔۔ یہ اوپر سے جتنی سخت ہیں ان کو مرد ایسا ہی چاہئے ہوتا ہے ۔۔ جو ان کو فتح کرے ۔ یقینا یہ اندر سے بڑی خوش ہوئی ہوگی ۔۔ کہ چلو کسی نے تو مردانگی دکھائی ۔۔ عورت غاروں کے دور سے عورت ہے ۔۔ یہ ہم مرد نہیں سمجھ پاتے ۔۔ کیوں کہ ہم نے بدلتے زمانے کے ساتھ پنک شرٹ پہن لی ہے ۔۔ اور عورت نے کوٹ پینٹ ۔۔

اترك رد